
نئی دہلی، 19 فروری (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو اے آئی سمٹ میں دنیا کے سامنے ہندوستان کا ”سروجن ہتائے اور سروجن سکھائے“ کا نظریہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک اور کمپنیاں اے آئی کو حکمت عملی کے طور پر استعمال کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ ہندوستان کا ماننا ہے کہ اے آئی کے لیے شفافیت سب سے اہم ہے۔
اس دوران وزیر اعظم نے کہا،”آج ہمیں یہ عزم کرنا چاہیے کہ اے آئی کو عالمی فلاح و بہبود کے طور پر تیار کیا جائے گا۔“
دنیا کے 20 ممالک کے رہنماؤں اور 45 ممالک کے وزراء کی موجودگی میں وزیر اعظم مودی نے اے آئی سے متعلق ”مانو“ وژن پیش کیا۔ مانو وژن کا مطلب ایم (مورل اینڈ ایتھیکل سسٹم )، اے (اکاونٹیبل گورننس)، این (نیشنل ساورنٹی)، اے ( ایکسسیبل اینڈ انکلوزیو) اور وی (ویلڈ اینڈ لجیٹیمیٹ) ہے۔
ڈیپ فیکس جیسے موجودہ اے آئی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ جس طرح کھانے کی اشیاءپر اس کے اندر مناسب اجزاء کے ساتھ لیبل لگایا جاتا ہے، اسی طرح ڈیجیٹل دنیا میں بھی لیبل لگانا بہت ضروری ہے۔
وزیر اعظم نے اے آئی کو انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ انقلابی اختراع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی رفتار اور پیمانہ اس سے پہلے کی کسی بھی اختراع سے کہیں زیادہ ہے۔ نتیجتاً، اس کے تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں، جن سے بچنا ضروری ہے۔
گلوبل ساؤتھ (ترقی پذیر ممالک) کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اے آئی کو جمہوری بنانے اور اسے شمولیت اور بااختیار بنانے کا ذریعہ بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد