نام اور لوگو کا غلط استعمال کرنے والی این جی اوپر سختی؛ انسانی حقوق کمیشن نے ریاستوں کو نوٹس جاری کیا
نئی دہلی، 19 فروری (ہ س)۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این ایچ آر سی) نے ان غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کا از خود نوٹس لیا ہے جو کمیشن کا نام، لوگو اور عہدوں کا غلط استعمال کرکے عوام کو گمراہ کر رہی ہیں۔ کمیشن نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر ان
NHRC-NGO-DGP-NOTICE-DELHI-PUNJAB


نئی دہلی، 19 فروری (ہ س)۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این ایچ آر سی) نے ان غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کا از خود نوٹس لیا ہے جو کمیشن کا نام، لوگو اور عہدوں کا غلط استعمال کرکے عوام کو گمراہ کر رہی ہیں۔ کمیشن نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو سخت کارروائی کرنے اور دو ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔

کمیشن نے جمعرات کو اطلاع دی کہ بہت سی این جی او خود کو نیشنل ہیومن رائٹس کونسل جیسے ناموں سے رجسٹر کر رہی ہیں جو کہ سننے میں سرکاری قانونی اداروں کی طرح لگتی ہیں۔ کمیشن نے واضح کیا کہ یہ تنظیمیں ”چیئرپرسن“ جیسے عہدوں کا استعمال کرکے عوام میں الجھن پیدا کر رہی ہیں۔ یہ گمراہ کن نام لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ کمیشن کا حصہ ہیں یا اس سے وابستہ ہیں۔ اس سے نہ صرف عوام کا اعتماد کم ہو رہا ہے بلکہ فنڈز کے غبن اور مینڈیٹ کے غلط استعمال کا بھی خدشہ ہے۔

کمیشن کے مطابق، ایک حالیہ معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ”نیشنل ہیومن رائٹس کونسل“ کے نام سے ایک این جی او دہلی میں رجسٹرڈ پائی گئی، جبکہ وہ کرناٹک میں فعال ہے۔ اس کے تشہیری مواد میں نیتی آیوگ اور مختلف وزارتوں کے ساتھ وابستگی کے بڑے بڑے دعوے کئے گئے ہیں۔ کرناٹک کے چیف سکریٹری اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سے اس معاملے میں دو ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ کمیشن نے دہلی کے چیف سکریٹری اور پولیس کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس این جی او کے رجسٹریشن اور سرگرمیوں کی تحقیقات کریں اور ایکشن رپورٹ پیش کریں۔

ان معاملات کی روشنی میں، کمیشن نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریز اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرلز (ڈی جی پی) کو نوٹس جاری کیا ہے، انہیں ہدایت دی ہے کہ وہ کمیشن کے نام یا لوگو کا غلط استعمال کرنے والے افراد اور تنظیموں کی فوری طور پر شناخت کریں۔ جو بھی قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے جائیں،ان کے رجسٹریشن کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور رجسٹریشن افسران کو آئندہ کے لیے خبردار کیا جائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande