
نئی دہلی، 19 فروری (ہ س) ۔ارضیاتی سائنس کی وزارت نے یہاں بھارت منڈپم میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ-2026 میں سمندری مستقبل کو محفوظ اور خوشحال بنانے کے لیے ایک اہم مذاکرے کی قیادت کی۔
”ہمارے مستقبل کے سمندروں کے لیے اے آئی: ڈیٹا، ماڈل اور حکمرانی “کے موضوع پر اس اعلیٰ سطحی مباحثے کے سیشن میں، ماہرین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) ہندوستان کی سمندری حکمرانی اور نیلگوں معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگی۔
اجلاس کے دوران ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کا استعمال صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ دیگر شعبوں میں انقلابی تبدیلی لائے گا۔ ان میں سمندری حکمرانی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ، نیلگوں معیشت اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی شامل ہیں۔
انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ ( آئی ایم ڈی ) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم موہا پاترا نے کہا کہ سمندر کے مشاہدے اور پیشگی وارننگ سسٹم میں ہندوستان کی صلاحیتیں اب عالمی سطح کی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’ ’تکنیکی ترقی اور اے آئی سے چلنے والے ماڈل کی بدولت، ہم شدید موسمی واقعات کے دوران جان و مال کے نقصان کو کم سے کم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اب ہمیں سمندر کے گرم ہونے اور سطح سمندر میں اضافے جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ’ڈیٹا سے چلنے والی اے آئی ‘ کو اپنانا ہوگا۔“
ڈاکٹر موہا پاترا نے’ڈیپ اوشین مشن‘ کو ہندوستان کی ایک بڑی پہل کے طور پر بیان کیا، جو گہرے سمندر کی تلاش اور آف شور توانائی کے میدان میں نئے راستے کھول رہا ہے۔
اس سیشن سے خطاب کرتے ہوئے، ہندوستان میں ناروے کے سفیر،مے-ایلین اسٹینر نے ہندوستان اور ناروے کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کھلے اور قابل بھروسہ اے آئی ماڈل ماہی گیری، جہاز رانی اور بندرگاہ کے کاموں کی کارکردگی کو یکسر بہتر بنا سکتے ہیں۔ مشترکہ معیارات اور ذمہ دار حکمرانی کی بنیاد پر تیار کیا گیا یہ ”گلوبل ڈیجیٹل اوشین فریم ورک“ نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے لیے نیلگوں معیشت کے نئے دروازے کھولے گا۔
وزارت کے مشیر ڈاکٹر پی کے سریواستو نے کہا کہ مستقبل کے تمام بحری پروگراموں میں اے آئی کو ایک منظم انداز میں مربوط کیا جائے گا۔
سیشن کے دوران ماہرین نے تسلیم کیا کہ سمندر ایک ڈیٹا کی کمی والا خطہ ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے طبیعیات پر مبنی اے آئی کی ترقی کی ضرورت ہے۔ بحث نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ معاون پالیسیوں، مخلوط مالیات اور بین الاقوامی تعاون کے ساتھ مل کر، نیلگوں معیشت ہندوستان اور گلوبل ساو¿تھ کے لیے روزگار کا ایک بڑا انجن بن سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد