
نئی دہلی، 18 فروری (ہ س)۔ سپریم کورٹ میںبدھ کو مغربی بنگال میں آئی-پیک کے دفترمیں چھاپے ماری کے سلسلے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کے دوران ایک مختصر لیکن گرما گرم بحث دیکھنے کو ملی۔ ایک طرف مغربی بنگال حکومت نے کہا کہ ای ڈی کو ہتھیار دیے جا رہی ہیں،تو ای ڈی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسے دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جسٹس پرشانت کمار مشرا کی سربراہی والی بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت 18 مارچ کو مقرر کی۔
سماعت کے دوران مغربی بنگال حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ لوتھرا نے کہا کہ ای ڈی کو ہتھیار دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ای ڈی کو یہ بتانا ہوگا کہ انہیں اتنے اختیارات کہاں سے حاصل ہوئے۔ اس سے ای ڈی کی نمائندگی کرنے والے اے ایس جی ایس وی راجو ناراض ہوگئے اور انہو ں نے کہا کہ ای ڈی کو ڈرایا جا رہا ہے۔
سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نےکہا کہ وہ اس بات پر بحث کریں گے کہ آیا ای ڈی کو آرٹیکل 32 کے تحت درخواست دائر کرنے کا اختیار ہے یا نہیں ۔ اس پر مغربی بنگال حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہہم اپنے دلائل میں درخواست کے قابل سماعت ہونے کا سوال اٹھا چکے ہیں۔ عدالت پہلے ہی اس کا نوٹس لے چکی ہے۔
سماعت کے دوران مغربی بنگال حکومت کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکلاءمینکا گروسوامی اور سدھارتھ لوتھرا نے نشانت نامی شخص کی طرف سے دائر درخواست پر نوٹس جاری کرنے کی مخالفت کی۔ گروسوامی نے کہا کہ نشانت کی کئی درخواستیں خارج کی جا چکی ہیں۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے اگلی سماعت 18 مارچ کو کرنے کا حکم دیا۔
اس معاملے میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ سے ای ڈی کی عرضی کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے داخل کردہ حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ جب اسی طرح کی ایک درخواست کلکتہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے تو متوازی کارروائی نہیں ہو جا سکتی۔ حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ ای ڈی کے پاس سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرنے کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔آئی -پیک دفتر کی تلاشی سے پہلے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیاتھا۔ ریاستی حکومت نے ای ڈی پر پریولیجڈ کمیونکیشن کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔
ای ڈی کی درخواست پر 15 جنوری کو مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ریاستی پولیس کے سینئر افسران کی مداخلت سے متعلق معاملے میں مغربی بنگال حکومت اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ عدالت نے ای ڈی حکام کے خلاف پولیس کی طرف سے درج ایف آئی آر پر بھی روک لگا دی۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ جمہوریت میں ہر جزو آزادانہ طور پر اپنے فرائض سرانجام دے سکے۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی مرکزی ایجنسی کو کسی سیاسی جماعت کے انتخابی کام میں مداخلت کا حق نہیں ہے لیکن اگر کوئی مرکزی تفتیشی ایجنسی قانونی طور پر اپنا کام کر رہی ہے تو اسے سیاسی کام کی آڑ میں تفتیش سے نہیں روکا جا سکتا۔
ای ڈی سے پہلے مغربی بنگال حکومت نے سپریم کورٹ میں کیویٹ داخل کی تھی ۔ 8 جنوری کو، ای ڈی نے ترنمول کانگریس کے تشہیر کے کام کو سنبھالنے والی کمپنی آئی -پیک کے دفتر اور اس کے ڈائریکٹر پرتیک جین کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ یہ چھاپہ مبینہ کوئلہ گھوٹالہ کی ای ڈی کی تحقیقات کے تحت مارا گیا تھا۔ اس معاملے میں، ای ڈی نے سپریم کورٹ میں ایک نئی عرضی دائر کی ہے جس میں مغربی بنگال پولیس کے ڈی جی پی راجیو کمار کو ہٹانے کی مانگ کی گئی ہے۔ ای ڈی نے مغربی بنگال پولیس کے اعلیٰ افسران بشمول ڈی جی پی راجیو کمار کو معطل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ ان افسران نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ مل کر تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی اور ثبوت چوری کرنے میں مبینہ طور پر مدد کی۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ ڈی جی پی راجیو کمار پہلے کولکاتا پولیس کمشنر کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے تھے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد