
نئی دہلی، 18 فروری (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے راجستھان میں اجمیر درگاہ کو شیو مندر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کیس کی سماعت پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے عرضی گزار سے کہا کہ وہ اجمیر سول کورٹ میں فریق نہیں ہیں، اس لیے ان کی درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ درخواست گزار نے بعد ازاں درخواست واپس لے لی۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ یہ کیس پلیس آف ورشپ ایکٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتا، اس لیے سول عدالت میں سماعت جاری رہے گی۔ یہ عرضی کرناٹک کے عمران اے نے دائر کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا کہ 12 دسمبر 2024 کو سپریم کورٹ نے ملک بھر میں مذہبی مقامات سے متعلق نئے مقدمات درج کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ عبادت گاہوں کے قانون کے جواز کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی جلد ہی سماعت کرے گی۔ پلیس آف ورشپ ایکٹ کیس کی سماعت اپریل کے بعد ہو سکتی ہے۔
عبادت گاہوں کے قانون کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں کئی عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔ ان درخواستوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ قانون ہندوو¿ں، جینوں، سکھوں اور بدھ مت کے ماننے والوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے۔ کسی بھی معاملے کو عدالت میں لانا ہر شہری کا آئینی حق ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan