
۔ہندوستان-برطانیہ نے وژن 2035 کے تحت آف شور ونڈ ٹاسک فورس کا آغاز کیا
نئی دہلی، 18 فروری (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے نئی اور قابل تجدید توانائی پرہلاد جوشی نے بدھ کو کہا کہ ہندوستان کی غیر حیاتیاتی ایندھن پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 272 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے، جس میں 141 گیگا واٹ شمسی اور 55 گیگا واٹ ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی شامل ہے۔
نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کے مطابق، ہندوستان اور برطانیہ نے آج انڈیا-یو کے آف شور ونڈ ٹاسک فورس کا آغاز کیا، جس کا مقصد وژن 2035 کے تحت اپنی وسیع تر ماحول کے لئے سازگار توانائی کی شراکت داری کے تحت آف شور ونڈ ڈیولپمنٹ میں تعاون کو تیز کرنا ہے۔
نئی اور قابل تجدید توانائی کے وزیر نے یہ معلومات انڈیا-یو کے آف شور ونڈ انرجی ٹاسک فورس کے آغاز کے موقع پر دی۔ اس موقع پر پرہلاد جوشی نے کہا کہ آف شور ونڈ انرجی ملک کے ماحول دوست، خود انحصار توانائی کے مستقبل کا ایک مضبوط ستون بن سکتی ہے۔ ٹاسک فورس کے باضابطہ آغاز کے موقع پر جوشی نے کہا کہ رواں مالی سال 2025-26 میں ہندوستان نے 35 گیگا واٹ سے زیادہ شمسی توانائی اور 4.61 گیگا واٹ ہوا سے حاصل ہونے والے صلاحیت کا اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ہندوستان نے اپنی کل نصب شدہ بجلی کی صلاحیت کا 50 فیصد غیر حیاتیاتی ذرائع سے حاصل کیا۔ یہ کامیابی طے ہدف سے پانچ برس پہلےحاصل کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار واضح پالیسی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سرمایہ کاروں اور صنعت کے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کامیابی کو 2030 تک قابل تجدید توانائی کے 500 گیگا واٹ اور 2070 تک کاربن کے خالص صفر اخراج کے ہندوستان کے پرعزم ہدف کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ آج ہندوستان کی نصب شدہ غیر حیاتیاتی توانائی صلاحیت 272 گیگاواٹ سے زیادہ ہے، جس میں شمسی توانائی سے 141 گیگا واٹ اور ہوا سے حاصل ہونے والی 55 گیگا واٹ شامل ہیں۔ ہماری کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پردھان منتری سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت، تقریباً 30 لاکھ خاندانوں کو دو سال سے بھی کم عرصے میں’روف ٹاپ سولر‘کی سہولت دستیاب ہوئی ۔ اس کے علاوہ، پردھان منتری کسان اورجا سرکشا ایوم اتھان مہابھیان یوجنا کے تحت، 21لاکھ پمپوں کو سولرائز کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد