حزب اللہ کاایک بار پھر غیر مسلح ہونے سے انکار
بیروت،18فروری(ہ س)۔لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے منگل کے روز ایک بار پھر ہتھیاروں کی دستبرداری کی لبنانی حکومت کی مہم کو مسترد کردیا ہے۔ لبنانی حکومت کے اس منصوبے پر فوج عمل کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔اس سلسلے میں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے لب
حزب اللہ کاایک بار پھر غیر مسلح ہونے سے انکار


بیروت،18فروری(ہ س)۔لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے منگل کے روز ایک بار پھر ہتھیاروں کی دستبرداری کی لبنانی حکومت کی مہم کو مسترد کردیا ہے۔ لبنانی حکومت کے اس منصوبے پر فوج عمل کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔اس سلسلے میں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے لبنانی حکومت اور فوج کو سخت دباو¿ کا سامنا ہے۔ کہ حزب اللہ کو جلد سے جلد غیر مسلح کیا جائے اور لبنان میں کسی گروپ کو مسلح ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔

لبنانی کابینہ نے ماہ اگست 2025 میں فوج کو یہ ذمہ داری دی تھی کہ حزب اللہ سے ہتھیاروں کی دستبرداری کرائے۔ لبنانی حکومت اس سلسلے میں امریکہ اور اسرائیل سے کیے گئے وعدوں کی خود کو پابند سمجھتی ہے۔ستمبر 2024 میں اسرائیل کی مسلط کردہ بد ترین جنگی یلغار میں حزب اللہ کی قوت شدید ترین تباہی سے دوچار ہوگئی تھی۔ جب اس کے سربراہ حسن نصراللہ کو بھی اسرائیل نے بمباری کرکے بیروت میں ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم 27 نومبر 2024 کو جنگ بندی کر دی گئی۔پیرکے روز حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے اپنی تازہ تقریر میں کہا ہے کہ لبنانی حکومت کس طرح حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر اپنی ساری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہے۔ کیونہ یہ کام کرکے لبنانی حکومت اسرائیل کے جارحانہ اہداف لبنان میں پورے کر رہی ہے۔دوسری جانب لبنانی کابینہ کے اجلاس کے بعد حکومتی ترجمان نے پھر رات کی ایک بریفنگ میں کہا ہے کابینہ ماہانہ بنیادوں پر اپنی اس مہم کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس نے تہیہ کر کھا ہے کہ کسی گروپ کے پاس ہتھیار نہیں رہنے دے گی نہ ہی لیطانی دریا سے جڑے علاقے میں اسلحے کی اجازت دی جائے گی اور اگلے چار مہینوں میں میں ہدف پورا کر لیا جائے گا۔حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے لبنانی رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ نے کہا ہے کہ ہم اس بارے میں نرمی نہیں کر سکتے۔ وہ حزب اللہ کے ریسپانس کا حوالہ دے کر اپنا مو¿قف واضح کررہے تھے۔ کابینہ کے اجلاس سے شیعہ وزیر نے بھی حکومتی ہدف کے خلاف اجلاس سے واک آو¿ٹ کیا اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی مخالفت کی۔ دوسری جانب اسرائیل کا موقف ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرانا اس کا ترجیحی ہدف ہے۔ اسرائیلی ریاست حزب اللہ کے ہتھیاروں کو ناقابل قبول قرار دیتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande