
نئی دہلی، 18 فروری (ہ س)۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی انسداد منشیات ٹاسک فورس نے منشیات کی اسمگلنگ کے ایک بین ریاستی گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں میاں -بیوی سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ، پولیس ٹیم نے 1.504 کلوگرام ہیروئن برآمد کی ہے، جس کی مالیت تقریباً 7.5 کروڑ روپے ہے۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ ملزمان شبہ سے بچنے کے لیے اہل خانہ کے ساتھ سفر کا بہانہ بنا کر رات گئے گاڑی کے ذریعے ہیروئن سپلائی کرتے تھے۔
کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سنجیو یادو نے بدھ کو کہا کہ کرائم برانچ کو اطلاع ملی تھی کہ ہیروئن بریلی سے لائی جا رہی ہے اور اسے لونی، غازی آباد اور دہلی کے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جا رہا ہے۔
تفتیش میں پتہ چلا کہ اس کام کے لئے ایک ویگن آر کار استعمال کی جا رہی ہے اور ملزم رات کو دہلی میں داخل ہوتا ہے۔ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے مزید بتایا کہ پولیس ٹیم نے بھوپورہ بارڈر پر جال بچھا دیا۔ غازی آباد سے آنے والی ایک مشکوک کار کو روک کر چیک کیا گیا۔ عارف خان اور اس کی اہلیہ شیکھا علی گاڑی میں سوار تھے۔ تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے 303 گرام ہیروئن برآمد ہوئی جب کہ عقب میں ایک تھیلے سے 1007 گرام ہیروئن برآمد ہوئی۔ این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پوچھ گچھ کے دوران عارف نے انکشاف کیا کہ وہ بریلی کے ایک بڑے سپلائر سے ہیروئن لاتا تھا اور دہلی-این سی آر میں آگے سپلائی کرتا تھا۔ اس نے بھلسوا ڈیری کے رہائشی جمن کو یہ کھیپ سپلائی کرنے کا بھی اعتراف کیا۔ اس کے بعد پولیس نے جمن کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ اس کے گھر سے 194 گرام اضافی ہیروئن برآمد ہوئی۔
پولیس کے مطابق عارف اس سے قبل غازی پور کے علاقے میں ایک دکان پر اکاو¿نٹسکا کام دیکھتا تھا۔ کووڈ-19 وبائی مرض کے دوران اس نے اپنی ملازمت کھو دی۔ بعد میں، اس نے ٹیکسی چلانا شروع کی اور منشیات فروشوں کے ساتھ رابطے میں آگیا۔ اس کی بیوی شیکھا نے بھی اس کاروبار میں اس کی مدد کرتی تھی ، تاکہ کوئی بھی گاڑی کو فیملی ٹرپ سمجھ کر نہ روکے۔ جمن پیشے سے بجلی کا کام کرتا ہے اور چھوٹے چھوٹے پیکٹ بناکر منشیات کو فروخت کرتا تھا۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد