ہندوستان کے اے آئی انقلاب کی بنیاد ہے: مرکزی وزیر ڈاکٹر پیماسانی
نئی دہلی، 17 فروری (ہ س)۔ مواصلات اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر پیماسانی چندر شیکھر نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں کہا کہ ٹیلی مواصلات ہندوستان کے مصنوعی ذہانت کے انقلاب کی بنیاد ہے۔ کنیکٹیویٹی کوئی عیش و آرام نہیں ہے، بلکہ خودمختاری ہے ا
IAIIS-PEMMASANI-CHANDRASHEKHAR-TELECOM


نئی دہلی، 17 فروری (ہ س)۔ مواصلات اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر پیماسانی چندر شیکھر نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں کہا کہ ٹیلی مواصلات ہندوستان کے مصنوعی ذہانت کے انقلاب کی بنیاد ہے۔ کنیکٹیویٹی کوئی عیش و آرام نہیں ہے، بلکہ خودمختاری ہے اور جامع ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی ہندوستان کی تکنیکی قیادت اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار بننے کی بنیاد ہے۔

یہاں بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والی انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں ٹیلی مواصلات اور مصنوعی ذہانت پر ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر پیماسانی چندر شیکھر نے کہا کہ 2014 میں براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 6 کروڑ تھی، لیکن 2025 تک یہ 100کروڑ تک پہنچ گئی۔اب فی صارف ماہانہ موبائل ڈیٹا کھپت اوسطاً 24جی بی سے زیادہ ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فائبر آپٹکس کوبچھانے کا کام 42لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ ہو چکا ہے اور ہندوستان دنیا میں سب سے تیز 5جی سروس شروع کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ ہندوستان کے نیٹ جیسے آخری میل تک رسائی کے اقدامات میں مسلسل سرمایہ کاری دیہی اور دور دراز علاقوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی خدمات لا رہی ہے اور نئی ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کو یقینی بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب صرف کنیکٹیوٹی بڑھانے اور صلاحیت سازی کی طرف کام کر رہا ہے۔ اس میں اعلیٰ صلاحیت والے فائبر بیک ہال، کم لیٹنسی ایپلی کیشنز کے لیے ایج کمپیوٹنگ، کلاو¿ڈ انفراسٹرکچر کو پھیلانا اور چھوٹے شہروں اور قصبوں میں بھی جدت کو فروغ دینے کے لیے سستی خدمات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی صنعتوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور بہت سی کمپنیاں اسے اپنے کاموں میں بھرپور طریقے سے اپنا رہی ہیں۔

ڈاکٹر چندر شیکھر نے کہا کہ ٹیلی مواصلات سیکورٹی انفراسٹرکچر کو مضبوط کیا گیا ہے۔ 1,200 سے زیادہ ادارے مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم سے جڑے ہوئے ہیں۔ اے ایس ٹی آر نامی آلے نے 86 لاکھ سے زیادہ جعلی سم کارڈوں کی شناخت کی اور اسے غیر فعال کر دیا ہے۔ مالیاتی دھوکہ دہی کے خطرے کے اشارے نے 1,400 کروڑ سے زیادہ مالیت کے فراڈ لین دین کو روکا ہے۔ اے آئی پر مبنی ا سپیم کا پتہ لگانے اور دھوکہ دہی سے بچاو¿ کے نظام شہریوں کی حفاظت کر رہے ہیں اور ڈیجیٹل اعتماد کو مضبوط کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی دوسری سب سے بڑی ٹیلی کمیونیکیشن مارکیٹ ہے اور اس کے پاس مصنوعی ذہانت کے اعلیٰ ترین ماحولیاتی نظاموں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے انڈیا اے آئی مشن کے تحت کی گئی تجاویز اور سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ میں بڑی سرمایہ کاری کو حکومت کی طویل مدتی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر خود انحصاری اور اختراع پر مبنی ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر کے لیے بیان کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande