بابا رام دیو نے اے آئی اور ڈیپ فیک کے ذریعہ آن لائن مواد پر پابندی کا مطالبہ کیا۔
نئی دہلی، 17 فروری (ہ س)۔ یوگا گرو بابا رام دیو نے دہلی ہائی کورٹ میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) اور ڈیپ فیک کا استعمال کرتے ہوئے آن لائن مواد پر پابندی لگانے کی درخواست دائر کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے بابا رام دیو کی عرضی کی مخالفت کرتے ہوئ
ڈیپ


نئی دہلی، 17 فروری (ہ س)۔ یوگا گرو بابا رام دیو نے دہلی ہائی کورٹ میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) اور ڈیپ فیک کا استعمال کرتے ہوئے آن لائن مواد پر پابندی لگانے کی درخواست دائر کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے بابا رام دیو کی عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پٹیشن اختلاف رائے کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ جسٹس جیوتی سنگھ کی سربراہی والی بنچ کل 18 فروری کو درخواست پر سماعت کرے گی۔

سماعت کے دوران بابا رام دیو نے درخواست کی کہ بغیر اجازت ان سے متعلق مواد کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آن لائن پلیٹ فارم پر بابا رام دیو سے متعلق مواد کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ سماعت کے دوران، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے کہا کہ اس درخواست کے ذریعے، جو ان کی شخصیت کے حقوق کے تحفظ کے لیے دائر کی گئی ہے، بابا رام دیو نے پیروڈی، طنز، سیاسی تبصرے، خبروں کی رپورٹس اور حقائق کی جانچ کو بھی ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ اس سے شہریوں کی آزادی اظہار کی خلاف ورزی ہوگی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے کہا کہ اپنی درخواست میں بابا رام دیو ایک ویڈیو کو ہٹانے کی مانگ کر رہے ہیں جس میں وہ ہاتھی پر سوار ہیں، ایک ویڈیو جس میں وہ ایلوپیتھک ڈاکٹر کے پاس علاج کرواتے ہوئے دکھائے گئے ہیں، اور پیٹرول کی قیمتوں پر ان کے سابقہ بیانات کو ہٹایا جائے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے کہا کہ اس طرح کے اظہار کو قانون کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔

اس سے قبل ہائی کورٹ کئی مشہور شخصیات کے ذاتی حقوق کے تحفظ کا حکم دے چکی ہے۔ ہائی کورٹ نے اداکار وویک اوبرائے، آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان، سابق کرکٹر سنیل گواسکر، فلم اداکار سلمان خان، اداکار اجے دیوگن، اداکارہ و رکن پارلیمنٹ جیا بچن، صحافی سدھیر چودھری، آرٹ آف لیونگ فاو¿نڈیشن کے بانی سری سری روی شنکر، اداکارہ سری جو اے، اداکار ویویک اوبرائے ،ابھیشیک بچن، اور فلم پروڈیوسر کرن جوہر سے متعلق مواد کے استعمال پر پابندی کا حکم دیا ہے

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande