
انقرہ،09جنوری(ہ س)۔فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی انروا انقرہ میں چند ہفتوں کے اندر اپنا دفتر کھولنے والی ہے، ایجنسی کے سربراہ فلپ لازارینی نے جمعرات کو ترکی کے دارالحکومت کے دورے پر کہا۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا، ہم نے ترکی کی حکومت کے ساتھ حتمی معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور اس بار پارلیمنٹ نے بھی اس کی توثیق کی ہے، اور مزید بتایا کہ اب یہ ’ہفتوں کا معاملہ‘ ہے۔اس اقدام سے صرف ایک دن قبل انروا نے کہا کہ ادارہ ایک ’سنگین‘ مالی بحران سے گذر رہا تھا جس کے باعث وہ غزہ کے 571 کے عملے کو برطرف کرنے پر مجبور ہو گیا جنہوں نے جنگ زدہ علاقے سے انخلاءکے بعد اس کے لیے کام جاری رکھا تھا۔انروا نے کہا، اسرائیل کی طرف سے بہت زیادہ سخت تنقید کی مہم اور حملوں کے بعد ہمارا انحصار رضاکارانہ عطیات پر ہے جن میں کمی کی بنا پر مالی مسائل پیدا ہوئے اور ان کے باعث یہ انتہائی مشکل فیصلہ کیا گیا۔لازارینی نے کہا، سات عشروں سے زائد عرصے سے ایجنسی نے غزہ، مغربی کنارے، لبنان، اردن اور شام میں فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد اور مدد فراہم کی ہے اور بہت زیادہ رکاوٹوں کے باوجود کام کر رہی ہے۔گذشتہ سال اسرائیل نے انروا کے ملک کے اندر کام کرنے پر پابندی لگا دی تھی اور لازارینی نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں بھی اس کی کارروائیاں روکنا چاہتا تھا۔انہوں نے کہا، اسرائیل کی حکومت انروا کا خاتمہ کرنے کی خواہش رکھتی ہے تاکہ یہ بات یقینی بنائی جائے کہ ایجنسی کا غزہ اور ممکنہ طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے مستقبل میں کوئی کردار نہ ہو۔اگر ایجنسی غزہ یا مغربی کنارے میں کام نہیں کر سکتی یا اسے بند کرنا پڑے تو ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو جائے گا۔ بنیادی طور پر کوئی ایسا شراکت دار یا کسی ادارے میں یہ صلاحیت بالکل نہیں ہے کہ وہ عوامی خدمات کو اتنے وسیع پیمانے اور دائرہ کار میں سنبھالے اور اسے کمیونٹی کا اعتماد حاصل ہو جو ایجنسی کو اب تک حاصل رہا ہے، انہوں نے کہا۔اسرائیل گذشتہ دو سالوں سے انروا پر دباو¿ بڑھا رہا ہے اور اس نے سات اکتوبر کے حملے میں انروا عملے کے ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا تھا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan