ترکمان گیٹ معاملہ کے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت 13 جنوری کو۔
نئی دہلی، 9 جنوری (ہ س)۔ تیس ہزاری عدالت نے فیض الٰہی مسجد کے اطراف کی مسماری کے دوران پتھراؤ کے معاملہ میں پانچ ملزمان کی درخواست ضمانت کی سماعت جمعہ کو ملتوی کر دی۔ عدالت نے درخواست ضمانت پر اگلی سماعت 13 جنوری کو کرنے کا حکم دیا۔8 جنوری کو عدالت
ترکمان گیٹ


نئی دہلی، 9 جنوری (ہ س)۔ تیس ہزاری عدالت نے فیض الٰہی مسجد کے اطراف کی مسماری کے دوران پتھراؤ کے معاملہ میں پانچ ملزمان کی درخواست ضمانت کی سماعت جمعہ کو ملتوی کر دی۔ عدالت نے درخواست ضمانت پر اگلی سماعت 13 جنوری کو کرنے کا حکم دیا۔8 جنوری کو عدالت نے پانچوں ملزمان کو 13 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا۔

عدالت نے محمد اریب، کاشف، عدنان، محمد کیف اور سمیر کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ دہلی پولیس نے ان سبھی کے خلاف چاندنی محل پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند کی دفعہ 221، 132، 121، 191، 223A اور عوامی املاک کو نقصان کی روک تھام کے قانون کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں اب تک 12 ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ 8 جنوری کو دہلی پولیس نے ترکمان گیٹ علاقے کے رہنے والے عفان، عادل، شاہنواز، حمزہ، اطہر اور عبید سمیت چھ مزید لوگوں کو گرفتار کیا۔

7-8 جنوری کی درمیانی شب رام لیلا میدان کے قریب فیض الٰہی مسجد کے نزدیک انسداد تجاوزات کی کارروائی کی گئی۔ اس کارروائی کے بعد تشدد پھوٹ پڑا اور لوگوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ پتھراؤ سے ایک ایس ایس او سمیت پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ دہلی پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی گئی تھی کہ ترکمان گیٹ کے سامنے واقع مسجد کو تجاوزات کے خلاف کارروائی کے تحت گرایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد وہاں لوگ جمع ہونے لگے۔ دہلی پولیس کے مطابق، تقریباً 150-200 لوگوں نے ان اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جو تجاوزات ہٹانے گئے تھے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande