نظام آباد کا نام بدل کر اندور کیا جائے گا‘— ایم پی ڈی اروند کااشتعال آمیز بیان
حیدرآباد، 9 جنوری (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظام آباد سے رکنِ پارلیمان ڈی اروند کے حالیہ بیان نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ایک پریس کانفرنس کے دوران نظام آباد کے نام سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈی اروند نے دکن کے ساتویں نظام کے نا
نظام آباد کا نام بدل کر اندور کیا جائے گا‘— ایم پی ڈی اروند کااشتعال آمیز بیان،


حیدرآباد، 9 جنوری (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظام آباد سے رکنِ پارلیمان ڈی اروند کے حالیہ بیان نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ایک پریس کانفرنس کے دوران نظام آباد کے نام سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈی اروند نے دکن کے ساتویں نظام کے نام کو لے کرنہ صرف گستاخانہ بلکہ انتہائی غیر شائستہ الفاظ استعمال کیے،جس پرمختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آرہا ہے۔اپنی تقریر میں ڈی اروند نے کہاکہ ایک گدھا نظام آیا تھا جس نے اندور کا نام بدل کر نظام آباد کیا، اور مزید یہ دعویٰ بھی کیا کہ نظام نام اتنامنحوس ہے کہ اس نام سے جڑی کوئی چیز کامیاب نہیں ہوئی، مثال کے طور پر نظام شوگر مل کا بند ہو جانا۔ان بیانات کو عوام اور دانشور طبقے نے تاریخ، تہذیب اورشخصیات کی توہین قرار دیاہے۔صرف یہی نہیں،ڈی اروند نے تلنگانہ کے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کو بھی غیر شائستہ انداز میں یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فارم ہاؤس پر جاکر ان سے نظام آباد کا نام اندور کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن اس بوڑھے نے بھی بات نہیں مانی۔ اس جملے کو بھی سیاسی مخالفین نے بے ادبی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیاہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈی اروند کا اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ان کے بیانات کو توجہ نہیں ملتی تو وہ جان بوجھ کر اشتعال انگیز اور بدتمیز زبان استعمال کرتے ہیں تاکہ میڈیا اورعوام کی توجہ حاصل کی جا سکے۔

عوامی سطح پر اس معاملے پر مختلف ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو ایسے بیانات سے سیاسی فائدہ پہنچتا ہے، اسی لیے ڈی اروند پارٹی میں اب تک برقرار ہیں، ورنہ ان کی سیاسی حیثیت اتنی نہیں کہ وہ ایک کارپوریٹر بھی بن سکیں۔وہیں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا بھارت ہے، جہاں مشہور ہونے کے لیے کام کی نہیں بلکہ کسی بڑی شخصیت کا نام لے کر بدتمیزی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈی اروند کے بیان کے بعد نظام آباد میں نام کی تبدیلی کے مسئلے سے زیادہ ان کی زبان اور لہجے پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور باشعور شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عوامی نمائندوں کو ذمہ داری اور شائستگی کے دائرے میں رہ کر بات کرنی چاہیے۔یہ معاملہ نہ صرف نظام آباد کی سیاست بلکہ ریاستی سیاست میں بھی ایک نیا تنازع بن کر ابھرا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید ردعمل اور سیاسی بیانات متوقع ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande