روہتاس ضلع کے 332 گاؤں میں پانی کے زہریلے ہونے کی اطلاعات
پٹنہ، 9 جنوری (ہ س)۔مدھیہ پردیش کے اندورمیں آلودہ پانی کی وجہ سے ایک درجن سے زائد اموات کی خبروں کے درمیان بہار کے روہتاس ضلع کے 332 گاؤں میں پانی کے زہر بننے کی خبرآرہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بہت زیادہ فلورائیڈ والے پانی نے کئی گاؤں والوں کو معذ
روہتاس ضلع کے 332 گاؤں میں پانی میں زہر بننے کی خبر


پٹنہ، 9 جنوری (ہ س)۔مدھیہ پردیش کے اندورمیں آلودہ پانی کی وجہ سے ایک درجن سے زائد اموات کی خبروں کے درمیان بہار کے روہتاس ضلع کے 332 گاؤں میں پانی کے زہر بننے کی خبرآرہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بہت زیادہ فلورائیڈ والے پانی نے کئی گاؤں والوں کو معذور کر دیا ہے۔ وہیں گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ انہیں آج بھی صاف پینے کا پانی نصیب نہیں ہوپا رہا ہے۔ صورتحال اس قدر خوفناک ہے کہ اس پانی میں دال تک نہیں گلتی ہے۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ (پی ایچ ای ڈی) نے ان گاوؤں کو فلورائیڈ سے متاثرہ قرار دیا ہے اس کے باوجود برسوں بعد بھی اس مسئلے کا کوئی ٹھوس حل تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔سہسرام شہرمیں ضلع ہیڈکوارٹرسے تقریباً 10 کلومیٹر دورکروندیا اورجموہار سے پانی کی سپلائی کی جاتی ہے۔ سپلائی کے پائپ کئی جگہوں پرگندے جمع پانی سے گزرتے ہیں۔ پائپ پھٹنے کے واقعات تواترسے ہوتے ہیں لیکن ذمہ دار محکمہ کی بے حسی کے باعث بروقت مرمت نہیں ہو پاتی۔ پرانے محلوں کی تنگ گلیوں میں جگہ کی قلت کے سبب گھروں تک جانے والے پائپ نالیوں کے اوپر سے نکالے گئے ہیں۔ کہیں رساؤ ہوا تو گھروں میں نالے کا گندہ پانی پہنچ جاتا ہے۔ غریب اورمعاشی طور پر کمزور لوگ یہی پانی پینے پرمجبورہیں۔ وہیں وسائل رکھنے والے لوگ بورویل یا خریدے ہوئے جارکا پانی پی رہے ہیں لیکن جارکے پانی کا معیار بھی شک کے گھیرے میں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande