وندے ماترم پر سیاسی تنازعہ تیز ، بی جے پی ترجمان کی کانگریس پر سخت تنقید
وندے ماترم پر سیاسی تنازعہ تیز ، بی جے پی ترجمان کی کانگریس پر سخت تنقیدممبئی، 9 جنوری (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان شہزاد پونا والا نے الزام عائد کیا ہے کہ وندے ماترم جیسی قومی علامت کو کچھ سیاسی جماعتوں نے ووٹ بینک کی سیاست کا ہتھی
MAHA POLITICS VANDE MATARAM POLITICAL DEBATE


وندے ماترم پر سیاسی تنازعہ تیز ، بی جے پی ترجمان کی کانگریس پر سخت تنقیدممبئی، 9 جنوری (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان شہزاد پونا والا نے الزام عائد کیا ہے کہ وندے ماترم جیسی قومی علامت کو کچھ سیاسی جماعتوں نے ووٹ بینک کی سیاست کا ہتھیار بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حب الوطنی اور قومی یکجہتی کی علامت کو تقسیم کرنا دراصل ملک کے اتحاد کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

یہ خیالات انہوں نے رام بھاؤ مہالگی میموریل لیکچر سیریز کے تحت منعقدہ سمپوزیم میں ظاہر کیے، جہاں موضوع ’’وندے ماترم اور قومی احیاء‘‘ رکھا گیا تھا۔ اس لیکچر سیریز کا انعقاد 08 جنوری سے 14 جنوری تک نوپاڑہ کے سرسوتی اسپورٹس کمپلیکس میدان میں کیا جا رہا ہے۔

پونا والا نے کہا کہ مسلمانوں کو خوش کرنے اور ووٹ بینک کو محفوظ رکھنے کے لیے اس وقت کے کانگریسی رہنماؤں نے وندے ماترم کو دو حصوں میں تقسیم کیا، جس کے نتائج ملک کی تقسیم کی صورت میں سامنے آئے۔ ان کے مطابق 1937 میں پنڈت جواہر لعل نہرو نے اس حوالے سے خط لکھ کر یہ فیصلہ کیا تھا۔

سمپوزیم میں صحافی کیرن تارے اور ملند بھاگوت نے مختلف سوالات کے ذریعے گفتگو کو آگے بڑھایا۔ اس دوران ڈاکٹر راجیو پوری نے کہا کہ ماضی میں تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی اور اصل حقائق کو مسخ کیا گیا۔

شہزاد پونا والا نے کہا کہ آج بھی کانگریس بھارتی شناخت کو مسترد کرنے والوں کو سیاسی سہارا دے رہی ہے۔ ان کے مطابق ذات پات اور مخصوص طبقاتی سیاست کے ذریعے ووٹ بینک کو مضبوط کرنا کانگریس کی پرانی حکمت عملی رہی ہے، جس کے اثرات اب بھی سیاست میں نظر آ رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande