
نئی دہلی، 8 جنوری (ہ س)۔ سونم وانگچک کی گرفتاری کو چیلنج کرنے والی درخواست پر سماعت کے دوران جمعرات کو سپریم کورٹ میں ججوں کو سونم وانگچک کی تقریر کا ایک ویڈیو دکھایا گیا۔ کیس کی اگلی سماعت 12 جنوری کو ہوگی۔
سماعت کے دوران وکیل کپل سبل نے چوری -چورا واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سونم وانگچک نے تشدد کے بعد فوری طور پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی تھی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب چوری- چورا واقعہ کے بعد تشدد شروع ہوا تو گاندھی جی نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ سبل نے کہا کہ گرفتاری کے 28 دن بعد ان کو حراست میں لینے کی بنیادوں کا انکشاف کیا گیا، جو واضح طور پر قانونی وقت کی حد کی خلاف ورزی ہے۔ سبل نے کہا کہ قانون کہتا ہے کہ اگر وہ دستاویزات جن کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا وہ ملزم کو دستیاب نہیں کرائے جاتے ہیں تو نظر بندی کا حکم کالعدم ہو جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے کئی فیصلوں میں یہ بات کہی ہے۔
درخواست میں سونم وانگچک کی گرفتاری کو چیلنج کیا گیا ہے۔ انہیں 26 ستمبر 2025 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت سونم وانگچک راجستھان کی جودھ پور جیل میں بند ہیں۔ گیتانجلی نے اپنے شوہر کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ گیتانجلی نے عرضی میں کہا ہے کہ سونم وانگچک کی گرفتاری کے ایک ہفتہ بعد بھی انہیں ان کی صحت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ سونم وانگچک لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ لداخ میں تشدد کے بعد ہونے والی فائرنگ میں چار افراد مارے گئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد