مدھیہ پردیش کے ریوا ضلع عدالت کو بم سے اڑانے کی دھمکی، وکیلوں کے چیمبر خالی کرائے گئے
ریوا، 8 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ریوا میں جمعرات کی صبح نئی ضلع عدالت کی عمارت کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملی ہے۔ ای-میل سے یہ دھمکی آمیز میسج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ملا ہے، جس میں ضلع عدالت کو آر ڈی ایکس سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ معاملے کی سن
ریوا ضلع عدالت احاطے میں جانچ میں مصروف پولیس


کورٹ احاطے کے باہر لگی بھیڑ


ریوا، 8 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ریوا میں جمعرات کی صبح نئی ضلع عدالت کی عمارت کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملی ہے۔ ای-میل سے یہ دھمکی آمیز میسج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ملا ہے، جس میں ضلع عدالت کو آر ڈی ایکس سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے یہ میسج فوراً ایس پی کو فارورڈ کیا۔ دھمکی آمیز ای-میل سامنے آتے ہی پولیس، انتظامیہ اور خفیہ ایجنسیوں نے مورچہ سنبھال لیا۔ کورٹ احاطے کی سیکورٹی بڑھا دی گئی اور احتیاطاً جانچ کا عمل شروع کیا گیا۔ کورٹ احاطے میں وکیلوں کے چیمبر خالی کرا لیے گئے ہیں۔

شہر کوتوالی تھانہ پولیس سے موصولہ معلومات کے مطابق، ضلع عدالت کی عمارت کو اڑانے کی دھمکی آمیز ای میل جمعرات کی صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ملی، جس میں دوپہر ڈھائی بجے تک کی مہلت دینے کی بات کی گئی تھی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس بم اسکواڈ کے ساتھ کورٹ احاطے پہنچی۔ کورٹ احاطے کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔ سیکورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے۔ وکیلوں کے چیمبر خالی کرائے گئے۔ کورٹ احاطے میں موجود ملازمین، وکیلوں اور دیگر لوگوں کو باہر کیا گیا۔ عام لوگوں کی آمدورفت پر بھی عارضی طور پر روک لگا دی گئی، تاکہ تلاشی مہم کے دوران کسی طرح کی بدانتظامی نہ ہو۔ اس کے بعد بم اسکواڈ اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نےسخت تلاشی مہم شروع کی۔ کورٹ کی عمارت کے ہر حصے کی باریکی سے جانچ کی گئی۔ چیمبر، ریکارڈ روم، کورٹ روم، راہداری، پارکنگ ایریا اور آس پاس کے کھلے مقامات کو کھنگالا گیا۔

بم ڈسپوزل دستے نے جدید آلات کی مدد سے مشکوک اشیاء کی جانچ کی، تاکہ کسی بھی طرح کے دھماکہ خیز یا خطرناک مواد کی موجودگی کو وقت رہتے پکڑا جا سکے۔ موقع پر بھاری پولیس فورس تعینات رہی اور پورا علاقہ کچھ دیر کے لیے چھاونی میں تبدیل نظر آیا۔ پولیس افسران نے حالات پر مسلسل نظر بنائے رکھی اور تلاشی مہم کو پوری ہوشیاری کے ساتھ انجام دیا۔

سی ایس پی راجیو تیواری نے معاملے کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ دھمکی آمیز میسج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو موصول ہوا تھا۔ انہوں نے اسے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کو فارورڈ کیا، جس کے بعد پولیس، بم اسکواڈ اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں فوراً موقع پر پہنچیں۔ انہوں نے بتایا کہ ای-میل کی زبان ہندی ہے اور اس میں کئی سنگین باتیں کہی گئی ہیں۔ میل میں تمل ناڈو میں 1979 کے نیشنل ڈیفنس/دہشت گردی سے جڑے قانون کا ذکر کیا گیا ہے۔ میل میں صاف لکھا ہے کہ دوپہر 2.35 بجے سے پہلے کورٹ احاطہ خالی کرا لیا جائے۔

سی ایس پی نے واضح کیا کہ سیکورٹی کو لے کر کسی بھی طرح کی لاپرواہی نہیں برتی جا رہی ہے اور ہر زاویے (اینگل) سے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس دھمکی دینے والے ای میل کا پتہ لگا رہی ہے۔ پولیس نے دھمکی آمیز میسج کے سورس کا پتہ لگانے کے لیے سائبر سیل کو بھی متحرک کر دیا ہے۔ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ میسج کس نمبر یا ذریعے سے بھیجا گیا اور اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ اس کے ساتھ ہی کورٹ احاطے اور آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں کے فوٹیج بھی کھنگالے جا رہے ہیں، تاکہ کسی مشکوک سرگرمی کا سراغ مل سکے۔

انہوں نے بتایا کہ فی الحال تلاشی مہم کے دوران کسی بھی مشکوک چیز کے ملنے کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن احتیاط کے طور پر کورٹ احاطے کے سیکورٹی انتظامات کو اور مضبوط کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جانچ پوری ہونے اور سبھی پہلوؤں کی تصدیق کے بعد ہی صورتحال کو پوری طرح معمول پر مانا جائے گا۔

اسی درمیان جانکاری سامنے آئی ہے کہ مدھیہ پردیش کے ساتھ ہی چھتیس گڑھ کی بھی تین ضلع عدالتوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملی ہے۔ ان میں درگ، بلاسپور اور راج ناندگاوں ضلع عدالتیں شامل ہیں۔ سبھی عدالتی احاطوں کو خالی کرایا گیا۔ عدالتوں میں موجود جج، وکیل، ملازمین اور عام شہریوں کو محفوظ باہر نکالا گیا۔ اطلاع ملتے ہی متعلقہ اضلاع کی پولیس اور بم ڈسپوزل دستہ (بم اسکواڈ) موقع پر پہنچ گیا اور پورے احاطے کی تلاشی شروع کی گئی۔ ڈاگ اسکواڈ کی مدد سے بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ فی الحال کسی بھی عدالت سے مشکوک چیز ملنے کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande