
۔عمر خالد میرے استاد نہیں ، سی اے اے کے احتجاج کے دوران ان کے ساتھ کوئی سازش نہیں کی
نئی دہلی، 8 جنوری (ہ س)۔ دہلی فسادات کے معاملے میں ملزم شرجیل امام نے کڑکڑڈوما کورٹ میں کہا کہ عمر خالد میرا کوئی گرویا رہنما نہیں ہے اور دہلی پولیس کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ امام کے وکیل طالب مصطفی نے ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپئی کی عدالت میں یہ باتیں الزامات طے کرنے پر دلائل پیش کرتے ہوئے کہیں۔
شرجیل امام کی طرف سے کہا گیا کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اپنی پانچ سالہ تعلیم کے دوران عمر خالد سے میری کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے ۔ شرجیل امام کی نمائندگی کرنے والے وکیل طالب مصطفی نے کڑکڑڈوما کورٹ میںکہا کہ عمر خالد نے انہیں کوئی ہدایات نہیں دی تھیں اور پولیس کے یہ دعوے بالکل جھوٹے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام ایک میٹنگ میں ایک ہی بار ساتھ نظر آئے ہیں، لیکن اس ملاقات میں بھی تشدد پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
وکیل نے کہا کہ 2020 میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کیہر طرف مخالفت ہو رہی تھی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی سازش تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرجیل امام نے کبھی تشدد کو بڑھاوا نہیں دیا۔ اس کی چیٹس، پمفلٹ اور تقریریں دیکھ لیجئے۔ دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ شرجیل امام تشدد یا فسادات بھڑکانا چاہتا تھا لیکن کسی بھی میٹنگ کا تشدد یا فسادات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شرجیل امام نے عدم تشدد کی وکالت کی ۔
سپریم کورٹ نے 5 جنوری کو شرجیل امام کی ضمانت عرضی مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک سال بعد ہی نئی ضمانت عرضی دائر کرنے کی ہدایت دی تھی۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد