جے شنکر نے پیرس میں جرمنی، فرانس، پولینڈ سے انڈو-پیسیفک کے چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا، ہندوستان کے خیالات کو پیش کیا
پیرس، 08 جنوری (ہ س)۔ فرانس کے دورے پر پہنچے ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے پہلی بار اپنے ’’وائمر‘‘ (جرمنی، فرانس، پولینڈ) کے ہم منصبوں کے ساتھ عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ ڈاکٹر جے شنکر نے اس دوران اپنے ہم منصبوں سے ہندوستان-یورپین
پیرس میں ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اپنے جرمنی، فرانس اور پولینڈ کے ہم منصبوں کے ساتھ۔ فوٹو جے شنکر کے ایکس ہینڈل سے


پیرس، 08 جنوری (ہ س)۔ فرانس کے دورے پر پہنچے ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے پہلی بار اپنے ’’وائمر‘‘ (جرمنی، فرانس، پولینڈ) کے ہم منصبوں کے ساتھ عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ ڈاکٹر جے شنکر نے اس دوران اپنے ہم منصبوں سے ہندوستان-یورپین یونین تعلقات کو مضبوط کرنے کے علاوہ انڈو-پیسیفک (بحر ہند-بحر الکاہل) کے چیلنجوں پر بات چیت کی۔

ڈاکٹر جے شنکر نے ایکس پوسٹ پر فوٹو کے ساتھ یہ جانکاری دی۔

انہوں نے کہا اس دوران یوکرین تنازعہ پر خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔ ہندوستان نے کھلی اور واضح گفتگو میں ان مسائل پر اپنا موقف پیش کیا۔ میٹنگ کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں دنیا کو وائمر اور ہندوستان کے رخ سے آگاہ کیا گیا۔

ہندوستانی وزیر خارجہ ڈاکٹر جے شنکر نے اس سے پہلے فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئیل بیرٹ سے ملنے کے بعد کہا کہ یورپ عالمی سطح پر اہم کھلاڑی ہے اور ضروری ہے کہ ہندوستان اور یورپ کے رشتے مضبوط ہوں۔ ہندوستان اور فرانس عالمی سیاست اور معیشت میں استحکام لا سکتے ہیں۔ جے شنکر نے بتایا کہ ہندوستان اگلے کچھ ہفتوں میں، جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور یورپی یونین کے اعلیٰ لیڈروں کی میزبانی کرے گا۔

قابل ذکر ہے کہ انڈو-پیسیفک ابھرتا ہوا جغرافیائی و سیاسی اور اقتصادی مرکز ہے۔ اس میں بحر ہند اور بحر الکاہل کے آس پاس کے ممالک اور آبی علاقے شامل ہیں۔ یہ مشرقی افریقہ ساحل سے مغربی بحر الکاہل تک پھیلا ہے اور دنیا کی اکثر آبادی اور معیشت کا مرکز ہے۔ اس میں ہندوستان، چین، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا جیسے ممالک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ خطہ تجارت، سیکورٹی اور سمندری راستوں کے لیے اہم ہے۔

یہ عالمی طاقت کے توازن اور سمندری سیکورٹی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ہندوستان اسے ’آزاد، کھلا اور سب کی شمولیت والا‘ خطہ مانتا ہے۔ آئی پی او آئی (انڈو-پیسیفک اوشن انیشیٹو) ہندوستانی پہل ہے۔ اس کا مقصد سمندری سیکورٹی اور تعاون کو مضبوط کرنا ہے۔ امریکہ کی بھی اس پر دلچسپی ہے۔ اس نے آئی پی ای ایف (انڈو-پیسیفک اکنامک فریم ورک) کی پہل کی ہے۔ ایک طرح سے یہ اقتصادی تعاون کا ڈھانچہ ہے۔ اس میں 14 ممالک شامل ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande