ایران میں خامنہ ای کے خلاف بغاوت، مظاہرین نے مقدس شہر مشہد میں جھنڈا اتارا، ایرانی بلوچ گروپ نے بھی حمایت دی
تہران/واشنگٹن، 08 جنوری (ہ س)۔ ایران میں 10 دن سے مہنگائی کے خلاف جاری مظاہرے سے نمٹنا اسلامک ریپبلک کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ عوام نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خلاف بغاوت کر دی ہے۔ جنوبی ایران کے ایک شہر میں سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر سامنے سے گو
ایران میں خامنہ ای کے خلاف بغاوت، مظاہرین نے مقدس شہر مشہد میں جھنڈا اتارا، ایرانی بلوچ گروپ نے بھی دی حمایت


تہران/واشنگٹن، 08 جنوری (ہ س)۔ ایران میں 10 دن سے مہنگائی کے خلاف جاری مظاہرے سے نمٹنا اسلامک ریپبلک کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ عوام نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خلاف بغاوت کر دی ہے۔ جنوبی ایران کے ایک شہر میں سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر سامنے سے گولیاں داغی ہیں۔ قم کے بعد دوسرے مقدس شہر مشہد میں حالات بے قابو ہو گئے ہیں۔ غصے میں آئے لوگوں نے اونچا اور بڑا جھنڈا اتار دیا۔ شمالی خراسان صوبے کا ایک گورنر ہاوس نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ لوگوں نے خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی کی ہے۔ امریکہ نے وارننگ دی ہے کہ اگر مظاہرین پر گولی باری بند نہیں ہوئی تو انجام بہت برا ہوگا۔ ایران انٹرنیشنل نے واقعات کے سامنے آئے ویڈیو کی بنیاد پر موجودہ صورتحال پر دی گئی رپورٹ میں ایسے کئی واقعات کا ذکر کیا ہے۔

ایک ویڈیو کے مطابق، بدھ کی شام جنوبی ایران کے بوشہر صوبے کے کنگان میں احتجاجی مظاہرے کے دوران سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر سیدھی گولی چلائی۔ مشہد میں مظاہرین نے اسلامک ریپبلک کا جھنڈا اتار دیا ہے۔ مشہد شمال مشرقی ایران کا مقدس شہر ہے۔

ایران انٹرنیشنل کو بھیجے گئے ایک ویڈیو کے مطابق، شمال مشرقی ایران کے نارتھ خراسان صوبے کے آشخانہ میں مانہ اور سملقان کے گورنر آفس کی بلڈنگ بدھ کی شام کو آگ کے شعلوں میں گھری نظر آئی۔ اس دو ران ایک ایرانی بلوچ سیاسی گروپ ’’بلوچستان پیپلز پارٹی‘‘ نے جنوب مشرقی ایران کے سیستان اور بلوچستان صوبے کے لوگوں سے ملک گیر احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ گروپ نے کہا، ’’ملک گیر احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں میں سرگرم شرکت کوئی سیاسی متبادل نہیں ہے، بلکہ آزادی، انصاف اور باوقار زندگی حاصل کرنے کے لیے ایک تاریخی ضرورت ہے۔‘‘

مغربی ایران میں مظاہرین نے سپریم لیڈر کے خلاف نعرے بازی کی ہے۔ ویڈیو کے مطابق، بدھ کی شام کو مغربی ایران کے ایلام میں مظاہرین سڑکوں پر اتر آئے اور خامنہ ای مردہ باد کے نعرے لگائے۔ اس دوران جلاوطن پرنس پہلوی نے انٹرنیٹ بند کرنے کی دھمکیوں کے درمیان ایرانیوں سے احتجاجی مظاہرہ جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے اس بغاوت کے لیے ہر ایرانی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ پہلوی نے بدھ کو ایکس پر ایک ویڈیو پیغام پوسٹ کیا۔ اس میں کہا، ’’ہمیں رپورٹ ملی ہے کہ حکومت بہت خوفزدہ ہے اور ایک بار پھر انٹرنیٹ بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’جان لیں کہ ہمارا رابطہ بند نہیں ہوگا۔ چاہے ایران میں لاکھوں اسٹار لنک ڈیوائس ہی کیوں نہ بھیجنی پڑیں۔‘‘

ایران کی وزارت خارجہ نے ملک میں ہو رہے احتجاجی مظاہروں پر امریکہ کے تبصروں کو ’’مداخلت کرنے والا‘‘ اور ’’بدامنی بھڑکانے کے مقصد سے کیا گیا‘‘ بتایا۔ بیان میں کہا گیا ہے، ’’اسلامک ریپبلک آف ایران آئین کے اصولوں کے مطابق پرامن احتجاجی مظاہروں کو تسلیم کرتا ہے۔‘‘ بیان میں کہا گیا، معاشی مشکلات کے لیے بہت حد تک امریکہ ذمہ دار ہے۔‘‘

صدر مسعود پیزشکیان نے افسران اور ماہرین تعلیم کے ساتھ میٹنگ میں کہا کہ موجودہ صورتحال سنبھالنے کی ذمہ داری سب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ اور مجلس (پارلیمنٹ) دونوں ہی ان ناکامیوں کے لیے ذمہ دار ہیں جن کی وجہ سے بدامنی پھیلی۔ خاص بات یہ ہے کہ سرکاری بیانات میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے کردار کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ احتجاجی مظاہرے پر اب تک اپنی واحد مداخلت میں خامنہ ای نے افسران سے کنٹرول اور سخت کرنے کی اپیل کی۔ قابل ذکر ہے کہ مظاہرین نے خامنہ ای کو اہم نشانہ بنایا ہے۔ ان پر فوجی مہم جوئی اور علاقائی پراکسی گروپس کو فنڈنگ کر کے ملک کو دیوالیہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

وہائٹ ہاؤس کے ایک افسر نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران پرامن مظاہرے کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کرتا ہے تو بہت برا ہوگا۔ افسر نے کہا، ’’صدر نے صاف کر دیا ہے کہ اگر ایران پرامن مظاہرین پر گولی چلاتا ہے تو انجام بہت برا ہوگا۔‘‘ اس افسر نے کہا کہ صدر نے آپریشن مڈ نائٹ ہیمر اور آپریشن ایبسولیوٹ ریزولو سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ جو کہتے ہیں، وہی کرتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دس دن میں ہوئی جھڑپوں میں کم از کم 36 لوگ مارے گئے ہیں۔ ان میں 34 مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے دو جوان شامل ہیں۔ 2,000 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande