
نئی دہلی، 8 جنوری (ہ س)۔ کانگریس کے میڈیا شعبے کے سربراہ پون کھیڑا نے مدھیہ پردیش کے اندور ضلع کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی پینے سے 18 سے زیادہ لوگوں کی موت کے بعد حکومت کی سوچھ بھارت ابھیان اور ہر گھر جل یوجنا پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندور مسلسل نو مرتبہ سوچھ بھارت ابھیان میں پہلے نمبر پر رہا ہے لیکن اس واقعہ نے سوچھ بھارت ابھیان اور ہر گھر جل یوجنا کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
کھیڑا نے جمعرات کو کانگریس ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اندور میں پائپ لائنوں کو تبدیل کرنے کا معاہدہ 22 جولائی 2022 کو منظور کیا گیا تھا، لیکن اس پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ گاندھی نگر، گجرات میں ٹائیفائیڈ کے معاملات میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لیکن اس مسئلہ پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے دہلی میں پانی کی آلودگی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب عام آدمی پارٹی اقتدار میں تھی تو پانی کالا تھا لیکن اس حکومت کے آنے کے بعد وہ پیلا ہو گیا۔
کھیڑا نے بین الاقوامی مرکز برائے پائیداری کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا 70 فیصد پانی آلودہ ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی حکومت عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کا کام کرتی ہے۔ ہر گھر جل یوجنا پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ ہوئے، لیکن یہ ہر گھر جل یوجنا نہیں بلکہ ’’ہر گھر مل یوجنا‘‘ ثابت ہوئی ہے۔ کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ لوگوں کے گھروں تک پہنچنے والا پانی سیوریج سے آلودہ ہے، اور اس کے لیے حکومت براہ راست ذمہ دار ہے۔ اس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بنک سے فنڈنگ حاصل کی گئی لیکن سوال یہ ہے کہ وہ رقم کہاں گئی؟
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد