
واشنگٹن/کراکس/نئی دہلی، 04 جنوری (ہ س)۔ وینزویلا میں حالات بے حد سنگین اور غیر معمولی موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایک بڑے فوجی آپریشن کے ذریعے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا ہے اور فی الحال وینزویلا پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، جب تک وہاں سیاسی اور سیکورٹی صورتحال معمول پر نہیں ہو جاتی، تب تک وینزویلا کی ذمہ داری امریکہ ہی سنبھالے گا۔
ٹرمپ نے وینزویلا آپریشن کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ کارروائی پوری طرح سے منصوبہ بند تھی اور اس میں امریکہ کی فوجی طاقت کا غیر معمولی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ انہوں نے کہا کہ سیکنڈ ورلڈ وار (دوسری جنگ عظیم) کے بعد اس سطح کا فوجی آپریشن شاید ہی کسی ملک نے انجام دیا ہو۔ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی جم کر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایسی بہادری، رفتار اور درستگی دنیا کا کوئی اور ملک نہیں دکھا سکتا۔
امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بتایا کہ مادورو کو پکڑنے کے اس آپریشن میں 150 سے زیادہ طیارے شامل تھے۔ یہ کارروائی ہوا، زمین اور سمندر-تینوں محاذوں سے کی گئی۔ ٹرمپ کے مطابق، آپریشن اتنا کامیاب رہا کہ پہلے حملے کے بعد کسی دوسرے بڑے حملے کی ضرورت نہیں پڑی، حالانکہ انہوں نے یہ بھی صاف کیا کہ اگر مستقبل میں حالات بگڑے تو امریکہ دوبارہ کارروائی کے لیے تیار ہے۔
اس سے پہلے امریکہ نے گزشتہ رات تقریباً 2 بجے (ہندوستانی وقت کے مطابق ہفتہ صبح 11.30 بجے) وینزویلا کے چار شہروں پر ایک ساتھ فوجی حملہ کیا۔ بتایا گیا کہ اس وقت صدر نکولس مادورو ایک ملٹری بیس میں سو رہے تھے۔ امریکی حملے کے بعد مادورو نے بیان جاری کر جوابی کارروائی کی وارننگ دی اور پورے ملک میں ایمرجنسی لگانے کا اعلان کیا۔ حالانکہ، ان کے بیان کے قریب ایک گھنٹے بعد ہی ٹرمپ نے مادورو کو پکڑ لیے جانے کا اعلان کر دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ وینزویلا کا اگلا لیڈر کون ہوگا۔ انہوں نے دو ٹوک کہا کہ امریکہ یہ نہیں چاہتا کہ مادورو حکومت کسی نئے چہرے کے ذریعے دوبارہ اقتدار میں لوٹے اور پرانے نظام کو جاری رکھا جائے۔ جب تک اقتدار کا صحیح اور مستحکم طریقے سے تبادلہ نہیں ہو جاتا، تب تک امریکہ وینزویلا کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں رکھے گا۔
پریس کانفرنس میں ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ جنوبی امریکہ کے ایک ملک میں فوجی مداخلت ان کے ’امریکہ فرسٹ‘ نعرے سے کیسے میل کھاتا ہے۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ پوری طرح سے امریکہ فرسٹ پالیسی کے مطابق ہے، کیونکہ امریکہ اپنے آس پاس مستحکم اور محفوظ پڑوسی چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وینزویلا میں تیل اور توانائی کے بڑے وسائل ہیں، جو امریکہ اور پوری دنیا کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ان وسائل کو محفوظ رکھا جائے اور ان کا صحیح استعمال ہو۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مادورو حکومت کو پہلے ہی وارننگ دی گئی تھی۔ ان کے مطابق، لاپرواہی اور وارننگ کو نظر انداز کرنے کی قیمت مادورو حکومت کو چکانی پڑی۔
وینزویلا میں تیزی سے بدلتے حالات کو دیکھتے ہوئے ہندوستان حکومت نے بھی چوکسی برتی ہے۔ وزارت خارجہ نے ہندوستانی شہریوں کو وینزویلا کے غیر ضروری سفر سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔ ساتھ ہی، جو ہندوستانی شہری کسی بھی وجہ سے وہاں موجود ہیں، انہیں بے حد احتیاط برتنے، اپنی نقل و حرکت محدود رکھنے اور کراکس واقع ہندوستانی سفارت خانے کے رابطے میں رہنے کو کہا گیا ہے۔
وینزویلا اس وقت گہرے سیاسی، فوجی اور انسانی بحران کے دور سے گزر رہا ہے۔ امریکی کارروائی نے نہ صرف لاطینی امریکہ بلکہ عالمی سیاست میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ وینزویلا میں اقتدار کی سمت کیا ہوتی ہے اور اس بحران کا بین الاقوامی سطح پر کیا اثر پڑتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن