
تہران، 04 جنوری (ہ س)۔ ایران میں مہنگائی اور ملک کے سپریم لیڈر خامنہ ای کے خلاف سات دن سے جاری تحریک ملک کے 31 صوبوں میں سے 25 کے کم از کم 60 شہروں میں پھیل گئی۔ ان شہروں میں 174 جگہوں پر صورتحال بے حد خراب ہے۔ مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں میں کم از کم 16 لوگوں کی جان چلی گئی۔ ان میں 15 مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کا ایک جوان بتایا گیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے بدامنی شروع ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں مظاہرین کو ’فسادی‘ کہہ کر مخاطب کیا۔
ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (ایچ آر اے این اے) نے بتایا کہ ایران میں سات دن سے جاری ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران کم از کم 15 مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کا ایک رکن مارا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے 31 میں سے 25 صوبوں کے 60 شہروں میں 174 جگہوں پر احتجاجی مظاہرے، ہڑتال یا جلسے ہوئے ہیں۔ اس دوران کم از کم 582 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں بڑی تعداد میں نابالغ شامل ہیں۔ ایران انٹرنیشنل نے تصدیق کی ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ایرانی فورسز کی فائرنگ میں کم از کم 44 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ہفتہ کو بدامنی شروع ہونے کے بعد اپنی پہلی عوامی تقریر میں مظاہرین کو ’فسادی‘ کہا اور ان کو دبانے کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائک والٹز نے کہا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ آزادی پسند ایرانیوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
ایران میں انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی مائی ساتو نے ایرانی حکام سے اظہار رائے کی آزادی اور پرامن جلسوں کے حقوق کا احترام کرنے اور مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرنے سے بچنے کی اپیل کی۔ ادھر، ایران کی دارالحکومت میں دو دن کی نسبتاً خاموشی کے بعد جمعہ کی رات تہران کے مشرقی اور مغربی اضلاع میں مظاہرین سڑکوں پر اتر آئے۔ اسی طرح کے احتجاجی مظاہرے مشہد اور قم کے مقدس شہروں میں بھی ہوئے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن