
جموں, 04 جنوری (ہ س)۔ ضلع مجسٹریٹ جموں ڈاکٹر راکیش منہاس نے منشیات کی غیر قانونی ترسیل پر مؤثر قدغن لگانے کے لیے کوریئر اور پارسل سروسز سے متعلق سخت احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ احکامات بی این ایس 2023 کی دفعہ 163 اور این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 کی متعلقہ دفعات کے تحت نافذ کیے گئے ہیں۔حکم نامے کے مطابق ضلع جموں میں کام کرنے والی کوئی بھی کوریئر کمپنی، پارسل سروس یا لاجسٹکس آپریٹر اس وقت تک منشیات، نفسیاتی ادویات یا کسی بھی قسم کی ممنوعہ اشیاء کو قبول، بک یا منتقل نہیں کرے گی جب تک کہ اس کے پاس این ڈی پی ایس رولز 1985 اور ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 کے تحت معتبر ٹرانسپورٹ اجازت نامہ موجود نہ ہو۔
ضلع مجسٹریٹ نے ہدایت دی ہے کہ تمام کوریئر اور پارسل سروسز بھیجنے والے اور وصول کنندہ کی شناخت کی مکمل جانچ کریں گی، جس میں سرکاری شناختی دستاویزات لازمی ہوں گی۔ ہر پارسل کا تفصیلی ریکارڈ رکھا جائے گا، جس میں بھیجنے اور وصول کرنے والے کی تفصیلات، پارسل کی نوعیت، وزن، بکنگ کی تاریخ، رسید اور ادائیگی کا طریقہ شامل ہوگا۔احکامات کے تحت کوریئر خدمات سے وابستہ تمام ملازمین، بشمول ڈیلیوری اسٹاف، لوڈرز، بکنگ کلرکس اور فرنچائز کارکنان کی مقامی پولیس سے تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملازمین کو مشکوک کھیپوں کی شناخت اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دینے کے حوالے سے تربیت اور بیداری فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ کوریئر کمپنی یا ایجنسی کو قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ مالکان، ڈائریکٹرز، ایجنٹس اور ملوث ملازمین کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ، بی این ایس ایس اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں کھیپوں کی ضبطی، لائسنس کی منسوخی، جرمانہ اور فوجداری کارروائی شامل ہے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جموں کو ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے، باقاعدہ معائنہ کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور آٹھ ہفتوں تک مؤثر رہے گا، تاہم ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع یا ترمیم کی جا سکتی ہے۔ حکم کی خلاف ورزی بی این ایس 2023 کی دفعہ 223 کے تحت قابلِ سزا ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر