
نئی دہلی، 3 جنوری (ہ س) ۔وینزویلا میں امریکی فوجی حملوں پر بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی ممالک اور تنظیموں نے انہیں وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جب کہ بعض رہنماو¿ں نے ان اقدامات کو آمرانہ حکومت کے خلاف دباو¿ قرار دیا ہے۔ ان واقعات نے لاطینی امریکہ سمیت دنیا بھر میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔روسی وزارت خارجہ نے امریکی حملے کو ’مسلح جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے مطالبے کی حمایت کی۔
میکسیکو نے یکطرفہ فوجی کارروائی کی پرزور مذمت کی اور مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی حل کا واحد راستہ قرار دیا۔ یوراگوئے، چلی اور کولمبیا نے اسی طرح بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور پرامن حل پر زور دیا۔برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے کہا کہ بمباری اور جبری مداخلت نے عالمی استحکام کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کی ہے۔ یورپی یونین نے صورت حال پر گہری نظر رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ برطانیہ نے واضح کیا کہ وہ فوجی کارروائی میں ملوث نہیں اور بین الاقوامی قانون کی حمایت کرتا ہے۔ارجنٹائن اور ایکواڈور کے صدور نے امریکی دباو¿ کو درست قرار دیتے ہوئے وینزویلا کی موجودہ حکومت کو علاقائی عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ایران، بیلاروس اور لبنانی تنظیم حزب اللہ نے امریکہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے صریح حملہ قرار دیا۔
امریکی حملوں نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں بہت سے ممالک انہیں قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کے لیے خطرہ کے طور پر دیکھتے ہیں، وہیں دوسرے انھیں وینزویلا میں سیاسی تبدیلی کی جانب فیصلہ کن قدم قرار دے رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan