
شیو سینا جموں و کشمیر نے میں بھارتی، میرا بھارت مہان کے عنوان سے مہم شروع کی
جموں، 03 جنوری (ہ س)۔ بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مبینہ مظالم کے پس منظر میں جموں شہر میں غیر قانونی طور پر مقیم روہنگیا اور بنگلہ دیشی باشندوں کو واپس بھیجنے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس سلسلے میں شہری سماج کے ساتھ ساتھ سیاسی تنظیمیں بھی سرگرم ہو گئی ہیں۔ شیو سینا جموں و کشمیر نے جمعہ کے روز میں بھارتی، میرا بھارت مہان کے عنوان سے ایک مہم کا آغاز کیا۔ مہم کے تحت جموں شہر کے مختلف علاقوں میں 100 سے زائد ریہڑی اور فڑی لگانے والوں کے آدھار کارڈ اور دیگر شناختی دستاویزات کی جانچ کی گئی۔ بھارتی شہری پائے جانے والوں کو میں بھارتی، میرا بھارت مہان کے اسٹیکرز دیے گئے۔
شیو سینا کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ جموں میں 15 سے 20 ہزار کے قریب بنگلہ دیشی اور روہنگیا شہری غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، جو مبینہ طور پر مختلف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ جب تک ایسے افراد کو واپس نہیں بھیجا جاتا، ان کی مہم جاری رہے گی۔ شیو سینا جموں و کشمیر کے ریاستی صدر منیش ساہنی نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور یہاں غیر قانونی طور پر رہنے والے بنگلہ دیشی اور روہنگیا شہری خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان مبینہ گھس پیٹھیوں کو فوری طور پر جموں و کشمیر سے بے دخل کیا جائے، کیونکہ ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پارٹی کارکنان نے شہر کے اندرا چوک، بس اڈہ اور ڈوگرا چوک سمیت مختلف مقامات پر تقریباً 100 ریہڑی فڑی والوں کے شناختی دستاویزات کی جانچ کی، جو درست پائے گئے۔ تاہم، پانچ ریہڑی والے کارکنان کو دیکھتے ہی موقع سے فرار ہو گئے، جن کی ریہڑیوں کی تصاویر لے کر ان کا ریکارڈ جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
منیش ساہنی کے مطابق اس مہم کو مقامی لوگوں کی بھرپور حمایت حاصل ہو رہی ہے اور عوام دیگر بستیوں میں بھی اس طرح کی جانچ کے لیے تنظیم کو مدعو کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمع کی گئی معلومات پولیس کے ساتھ بھی شیئر کی جائیں گی۔ ادھر موقع پر پہنچے پولیس افسران نے مشورہ دیا کہ اس طرح کی کارروائی خود کرنے کے بجائے متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر