


بھوپال میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سماجی ہم آہنگی میٹنگ ہوئی
بھوپال، 03 جنوری (ہ س)۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت نے کہا کہ سماجی ہم آہنگی کوئی نیا تصور نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے سماج کا مزاج رہا ہے۔ سماج میں سجن شکتی (شریف لوگوں کی طاقت) کی بیداری، کردار میں پانچ تبدیلیاں اور مسلسل خیر سگالی ڈائیلاگ آج کی لازمی ضرورت ہے۔
سرسنگھ چالک ڈاکٹر بھاگوت ہفتہ کو آخری دن راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی جانب سے کشابھاو ٹھاکرے آڈیٹوریم میں منعقد سماجی ہم آہنگی میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ مدھیہ بھارت پرانت کے 16 سرکاری اضلاع کے سماج کے مختلف طبقات اور تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت اس میٹنگ کی خاصیت رہی۔
دراصل، یہ میٹنگ دو سیشنز میں منعقد کی گئی تھی۔ پہلے سیشن کا آغاز شمع روشن کرنے کے ساتھ ہوا۔ اسٹیج پر سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت، مشہور کتھا واچک پنڈت پردیپ مشرا اور مدھیہ بھارت پرانت سنگھ چالک اشوک پانڈے موجود رہے۔
اس موقع پر سرسنگھ چالک ڈاکٹر بھاگوت نے واضح کیا کہ ”سماج لفظ کا مطلب ہی یکساں منزل کی طرف بڑھنے والا گروپ ہے۔ ہندوستانی سماج کا تصور ہمیشہ ایسا رہا ہے، جس میں زندگی مادی اور روحانی دونوں نقطہ نظر سے خوشحال ہو۔ ہمارے رشی منیوں نے یہ سمجھا کہ وجود ایک ہے، صرف دیکھنے کا نظریہ الگ الگ ہے۔ ان کی تپسیا اور سادھنا سے ہی قوم کی تعمیر ہوئی اور وہی ہماری ثقافتی بنیاد ہے۔“
سرسنگھ چالک نے کہا کہ ”قانون سماج کو کنٹرول کر سکتا ہے، لیکن سماج کو چلانے اور جوڑ کر رکھنے کا کام خیر سگالی ہی کرتی ہے۔ تنوع کے باوجود اتحاد ہی ہماری پہچان ہے۔ ظاہری طور پر ہم الگ نظر آسکتے ہیں، لیکن قوم، مذہب اور ثقافت کی سطح پر ہم سب ایک ہیں۔ اسی تنوع میں اتحاد کو قبول کرنے والا سماج ہندو سماج ہے۔“
انہوں نے کہا کہ ہندو کوئی اسم نہیں، بلکہ ایک مزاج ہے، جو عقیدے، عبادت کے طریقے یا طرز زندگی کی بنیاد پر جھگڑا نہیں کرتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا، ”سماج میں بھرم پھیلا کر قبائلی اور دیگر طبقات کو یہ کہہ کر توڑنے کی کوشش کی گئی کہ وہ الگ ہیں، جبکہ سچائی یہ ہے کہ ہزاروں برسوں سے اکھنڈ بھارت (غیر منقسم ہندوستان) میں رہنے والے سبھی لوگوں کا ڈی این اے ایک ہے۔ بحران کے وقت ہی نہیں، بلکہ ہر وقت خیر سگالی بنائے رکھنا ضروری ہے۔ ملنا، بات چیت کرنا اور ایک دوسرے کے کاموں کو جاننا ہی خیر سگالی کی پہلی شرط ہے۔“ انہوں نے کہا کہ اہل کو کمزور کی مدد کرنی چاہیے۔
پہلے سیشن میں پنڈت پردیپ مشرا نے اپنے دعائیہ کلمات میں کہا کہ سبھی سماج اپنے اپنے سطح پر کام کر رہے ہیں، لیکن یہ سوال بھی ضروری ہے کہ ہم نے قوم کے لیے کیا کیا اور قوم کو کیا دیا۔ انہوں نے کہا، ”سنگھ اور شیو کے جذبے میں عجیب مماثلت ہے۔ جیسے شیو نے تمام کائنات کے لیے زہر پیا، ویسے ہی سنگھ روزانہ الزامات کا زہر پی کر بھی ضبط اور قومی مفاد میں کام کرتا ہے۔“
انہوں نے کہا کہ پیدائش چاہے کسی بھی ذات میں ہوئی ہو، پہچان بالآخر ہندو، سناتنی اور ہندوستانی کی ہی ہے۔ ہر ہندوستانی میں قوم کی ترقی اور سماج کی ترقی کی عجیب صلاحیت ہے۔ تبدیلی مذہب کو انہوں نے صرف موجودہ نسل ہی نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرنے والا سنگین سازش بتایا اور اس کے تئیں سماج کو بیدار رہنے کی اپیل کی۔
پروگرام کے آغاز میں مختلف سماجوں کے نمائندوں کی جانب سے اپنے اپنے کاموں کی رپورٹ پیش کی گئی۔ تیلی ساہو سماج کی جانب سے میوا لال ساہو نے بتایا کہ سماج 1911 سے گھر واپسی اور معاشی ترقی کے لیے کام کر رہا ہے۔ جین ملن کے قومی نائب صدر دیویندر جین نے ماحولیاتی تحفظ، گئوشالہ کے انتظام، صحت کی خدمات، خون کا عطیہ اور تعلیم کے شعبے میں چل رہے کاموں کی جانکاری دی۔
سماجی ہم آہنگی میٹنگ کا اختتام اس عہد کے ساتھ ہوا کہ سماج اپنے علاقے کے مسائل کے حل کے لیے خود آگے آئے گا اور حکومت کا انتظار کیے بغیر اجتماعی کوشش کرے گا۔ مقررین نے واضح کیا کہ یہ میٹنگ کسی ایک تنظیم کی نہیں، بلکہ پورے ہندو سماج کی ہے۔ مقصد ایک ہی ہے کہ پورا سماج مل کر پورے سماج کو طاقتور بنائے اور ایک سماج، ایک قوم کے طور پر مضبوطی سے کھڑا رہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن