
علی گڑھ، 03 جنوری (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ علم الحیوانات (زولوجی) کے زیرِ اہتمام ”تحقیقی میدان میں غیرممّالی ماڈلز، تھری آر اصولوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ“ کے عنوان سے 6 روزہ قومی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچی۔ ورکشاپ کی آرگنائزنگ چیئرپرسن پروفیسر قدسیہ تحسین نے کہا کہ اس ورکشاپ نے شرکاء کو عملی تربیت اور نظریاتی وضاحت فراہم کی، جو ان کے تعلیمی و تحقیقی سفر میں نہایت مفید ثابت ہوگی۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ، معاون اداروں، ریسورس پرسنز اور منتظمین کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔
اختتامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے فیکلٹی آف لائف سائنسز کے ڈین پروفیسر نفیس احمد خان نے شعبہ زولوجی کی جانب سے سائنسی اعتبار سے اہم اور اخلاقی پہلوؤں پر مبنی پروگرام کے انعقاد کو سراہا اور عصری تحقیق میں غیرممّالی ماڈل سسٹمز اور تھری آر کے اصولوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
شریک آرگنائزنگ چیئرپرسن پروفیسر حنا پرویز نے طلبہ اور نوجوان محققین کی بھرپور شرکت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سی ایلیگینز، ڈروسوفیلا اور ہائیڈرا جیسے ماڈل آرگینزم سے واقفیت جدید اور اخلاقی تحقیقی طریقوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔ اختتامی اجلاس کے دوران تمام شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں اور عمدہ ترین پوسٹر ایوارڈز کا اعلان کیا گیا۔ ہائیڈرا زمرے میں آصفہ علی نے پہلا انعام حاصل کیا۔ اس کے بعد اویس جاوید، ابھیشیک اور کشش وارشنے رہے۔
سینور ہیب ڈائٹس ایلیگینس کے زمرہ میں کلثوم ناصر کو پہلا انعام دیا گیا، جبکہ ہرش مہتا اور پریانشو پال کو دوم اور اومکار متھوریا کو سوم انعام ملا۔ ڈروسوفیلا میلانوگیسٹر زمرہ میں حرا فاطمہ قدوائی نے پہلا، گروِت شرما نے دوسرا اور فائزہ پرویز اور محمد عادل سعید نے مشترکہ طور پر تیسرا انعام حاصل کیا۔ پروفیسر یاسر حسن صدیقی نے اظہار تشکر کیا جب کہ اقرا سبحان نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ