
آگر مالوہ، 03 جنوری (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے آگر مالوہ ضلع اسپتال میں ہفتہ کو ڈیلیوری کے دوران ایک حاملہ خاتون اور اس کے نوزائیدہ بچے کی موت ہونے سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ واقعے کے بعد مشتعل لواحقین نے ذمہ دار ڈاکٹر اور اسٹاف پر سنگین لاپرواہی کے الزام لگاتے ہوئے اسپتال احاطے میں جم کر ہنگامہ کیا۔
موصولہ جانکاری کے مطابق بڑا گاوں رہائشی یاسمین زوجہ اقبال (31 سال) کو دردزہ ہونے پر لواحقین ضلع اسپتال لے کر پہنچے تھے۔ لواحقین کا الزام ہے کہ اسپتال میں تعینات خاتون ڈاکٹر، ڈاکٹر شیتل مالویہ کے ذریعے ژچگی کرائی گئی، لیکن اس دوران ضروری احتیاط اور وقت پر علاج نہیں کیا گیا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ژچگی کے دوران لاپرواہی برتی گئی، جس سے پہلے نوزائیدہ کی اور اس کے بعد خاتون کی موت ہو گئی۔ ماں اور بچے کی موت کی خبر ملتے ہی اسپتال احاطے میں کہرام مچ گیا۔ ناراض لواحقین نے اسپتال میں جم کر ہنگامہ کیا اور اسپتال انتظامیہ پر سنگین الزام لگائے۔ دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ پولیس کو موقع پر پہنچنا پڑا۔
واقعے کی جانکاری ملتے ہی این ایس یو آئی کے قومی جنرل سکریٹری انکش بھٹناگر بھی بڑی تعداد میں کارکنان کے ساتھ ضلع اسپتال پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ یہ براہ راست طبی لاپرواہی کا معاملہ ہے اور قصوروار ڈاکٹر کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ وہیں دوسری طرف خاتون ڈاکٹر، ڈاکٹر شیتل مالویہ نے تھانہ انچارج کو دیے گئے اپنے درخواست میں الزامات سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیلیوری سے پہلے ہی پیٹ میں بچے کی موت ہو چکی تھی، جبکہ خاتون کی موت بعد میں ہوئی۔ ڈاکٹر کے مطابق علاج ضابطے کے تحت کیا گیا اور اس میں کسی طرح کی لاپرواہی نہیں ہوئی۔ معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے اسپتال انتظامیہ حرکت میں آئی ہے۔
انچارج سول سرجن وجے ساگریا نے بتایا کہ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے گی۔ جانچ رپورٹ آنے کے بعد اگر کسی بھی سطح پر لاپرواہی پائی جاتی ہے تو متعلقین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن