

اندور، 03 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے اندور شہر کے بھاگیرتھ پورا علاقے میں آلودہ پانی سے ہوئی اموات کے معاملے میں سیاست گرما گئی ہے۔ ہفتہ کو اس مسئلے کو لے کر بھاگیرتھ پورا میں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کارکنان آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ دونوں طرف سے جم کر نعرے بازی کی جا رہی ہے۔
بی جے پی کارکنان ’باہری لوگ واپس جاؤ‘ اور کانگریسی ’گھنٹہ پارٹی مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ موقع پر بھاری پولیس فورس موجود ہے اور مسلسل سمجھا رہی ہے۔ اسی بیچ علاقے میں آلودہ پانی سے ایک اور موت کی جانکاری سامنے آئی ہے۔ اس کے بعد یہاں مہلوکین کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔
معاملے کی جانچ کے لیے کانگریس کی تشکیل شدہ جانچ کمیٹی کے رکن اور سابق وزیر سجن سنگھ ورما سمیت کئی رکن اسمبلی اور لیڈر آج متاثرہ علاقے میں پہنچے۔ کانگریس کے اس دورے کا بی جے پی کارکنان نے پرزور مخالفت کی، جس کے بعد دونوں پارٹیاں آمنے سامنے آ گئیں۔ سابق وزیر سجن سنگھ ورما نے حکومت اور مقامی انتظامیہ پر تیکھا حملہ بولا۔ انہوں نے وزیر کیلاش وجے ورگیہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کیلاش جی، اگر آپ کی انتظامیہ میں چل ہی نہیں رہی ہے، تو استعفیٰ دے دیجئے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس سانحہ کے خلاف آج کانگریس پوری ریاست میں بی جے پی کے بڑے لیڈروں کے گھروں کے باہر ’گھڑیال‘ بجا کر سوئی ہوئی حکومت کو جگانے کا کام کرے گی۔
کانگریس لیڈروں کے پہنچنے سے پہلے ہی بی جے پی کارکنان بھاری تعداد میں بھاگیرتھ پورا میں جمع ہو گئے تھے۔ بی جے پی کارکنان نے کانگریس کے خلاف جم کر نعرے بازی کی اور انہیں علاقے میں گھسنے سے روکنے کی کوشش کی۔ ماحول تب اور کشیدہ ہو گیا، جب کچھ خواتین کارکنان نے کانگریس لیڈروں کی طرف چوڑیاں پھینکیں اور کالے جھنڈے دکھائے۔ بھاگیرتھ پورا میں پولیس صورتحال سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دونوں پارٹیوں کے کارکنان نعرے بازی کے ساتھ آپس میں دھکا مکی بھی کر رہے ہیں۔
بھاگیرتھ پورا میں فی الحال ہنگامے کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کارکنان کے ساتھ کچھ مقامی لوگ بھی نعرے بازی کر رہے ہیں۔ خواتین ایک دوسرے سے بحث کرتی دکھ رہی ہیں۔ خاتون کانگریس کی ریاستی صدر رینا بوراسی نے کہا کہ ہم ان لوگوں سے ملنے جا رہے ہیں، جن کے گھر موت ہوئی ہیں۔ بی جے پی کے لوگ ہمیں روک رہے ہیں۔ یہ کیا ہماری غلطی ہے؟ ہمیں کیوں روکا جا رہا ہے؟ پولیس اور انتظامیہ بھی بی جے پی کی ہے۔ انہیں کا کام کر رہے ہیں یہ لوگ۔ متاثرین سے ملنے کے لیے ہم جدوجہد کرتے رہیں گے۔
ادھر، آج جانکاری سامنے آئی ہے کہ اندور میں آلودہ پانی پینے سے بیمار ہوئے ہیرا لال (65) کی موت 31 دسمبر کو ہو گئی تھی۔ بھاگیرتھ پورا واقع پرائمری ہیلتھ سینٹر کے مطابق ہیرا لال نامی بزرگ رہائشی شیتل نگر لکشمی نگر میں کسی کے پاس ملنے آئے تھے، تبھی ان کی حالت خراب ہوئی تھی۔ ہیرا لال کی موت کے بعد بھاگیرتھ پورا علاقے میں آلودہ پانی سے مرنے والوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔
ادھر، اندور میں آلودہ پانی پینے سے ہو رہی اموات کے بعد وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے جمعہ کی رات اندور میونسپل کارپوریشن کمشنر دلیپ یادو کو ہٹا دیا تھا۔ اس کے بعد ریاستی حکومت نے نئے میونسپل کمشنر کی تقرری کر دی ہے۔ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کے 2014 بیچ کے افسر شتیج سنگھل کو اندور میونسپل کارپوریشن کا کمشنر بنایا گیا ہے۔ وہ فی الحال مدھیہ پردیش مدھیہ شیتر ودیت وترن کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے۔ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے ہفتہ کو ان کی تقرری کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اندور میونسپل کارپوریشن میں کمشنر کے علاوہ تین نئے افسران مقرر کیے گئے۔ کھرگون ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو افسر آکاش سنگھ، علی راج پور ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو افسر پرکھر سنگھ اور اندور ڈپٹی ٹرانسپورٹ کمشنر آشیش کمار پاٹھک کو کارپوریشن میں ایڈیشنل کمشنر بنایا گیا ہے۔
آلودہ پانی سے ڈرے بھاگیرتھ پورا کے رہائشیوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے افسر اب بستیوں میں جا کر ان کے سامنے پانی پی کر دکھا رہے ہیں۔ ہفتہ کی صبح کلکٹر شوم ورما بستی پہنچے اور پانی تقسیم رہے ٹینکروں کا پانی پیا اور اس کی کوالٹی دیکھی۔ اس دوران رہائشیوں نے ان کے سامنے شکایتوں کی جھڑی لگا دی۔ کسی نے کہا کہ خالی پلاٹوں پر کچرا صاف نہیں ہوتا تو کسی نے تنگ گلیوں میں پانی کے ٹینکر نہیں آنے کی پریشانی بتائی۔ کلکٹر نے کارپوریشن افسران سے کہا کہ وہ ٹینکروں میں بڑے پائپ لگوا کر پانی تنگ گلیوں میں پہنچائیں۔ وہ مہلوک لوگوں کے گھر والوں سے بھی ملے۔
اندور کے بھاگیرتھ پورا میں محکمہ صحت کی ٹیم رنگ سروے میں مصروف ہے۔ علاقے میں 7x24 ڈاکٹروں کی ڈیوٹی علاقے میں لگائی گئی ہے۔ مریضوں کو ایم وائی اسپتال، اروندو اسپتال اور بچوں کو چاچا نہرو اسپتال میں ریفر کیا جا رہا ہے، جو مریض پرائیویٹ اسپتالوں میں جا رہے ہیں، وہاں پر بھی مفت علاج، جانچ اور دوا کا انتظام کیا گیا ہے۔ اندور کے چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ افسر ڈاکٹر مادھو پرساد ہسانی نے بتایا کہ ابھی تک مختلف اسپتالوں میں داخل مریضوں کی تعداد 310 ہے۔ ساتھ ہی کل 107 مریضوں کو ڈسچارج کیا گیا ہے۔ اس طرح فی الحال کل 203 مریض اسپتال میں داخل ہیں، جن کا علاج کیا جا رہا ہے۔ فی الحال آئی سی یو میں 25 مریض داخل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن