قتل کے مقدمہ میں ملزم باپ بیٹے کو عدالت نے بے قصور قرار دیا
تھانے ، 3 جنوری(ہ س)۔ تھانے کی ایک سیشن عدالت نے 2022 کے قتل مقدمے میں گرفتار باپ اور بیٹے کو ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات کو معقول شک سے بالا
قتل کے مقدمہ میں ملزم باپ بیٹے کو عدالت نے بے قصور قرار دیا


تھانے

، 3 جنوری(ہ س)۔ تھانے کی ایک سیشن عدالت نے 2022 کے قتل مقدمے

میں گرفتار باپ اور بیٹے کو ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔ عدالت نے

اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات کو معقول شک سے بالاتر

ثابت نہیں کر سکا۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایس بی اگروال نے 69 سالہ رام بدن

برسن یادو اور ان کے 39 سالہ بیٹے اویناش کو سنیل جگن ناتھ یادو کے قتل اور حملے

کے مقدمے میں قصوروار نہ پاتے ہوئے بری کر دیا۔ مقتول کی عمر 23 سال بتائی گئی تھی۔

استغاثہ

کا دعویٰ تھا کہ جون 2022 میں سنیل کو اویناش کی بیٹی کے ساتھ تعلقات کے سبب نشانہ

بنایا گیا۔ الزام کے مطابق 26 جون کی ابتدائی ساعتوں میں اپون علاقے میں واقع

ملزمان کے مکان میں مقتول کو باندھ کر تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں اسے 46 سنگین

چوٹیں آئیں۔ بعد میں اسے کے ای ایم اسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ تین دن بعد زخموں

کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

عدالت

نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پڑوسیوں اور مقتول کے رشتہ داروں کے بیانات میں نمایاں

تضادات پائے گئے ہیں، جب کہ پولیس میں شکایت درج کرانے میں تاخیر کی کوئی تسلی بخش

وجہ بھی سامنے نہیں آئی۔ عدالت نے وکیلِ صفائی کی اس دلیل کو بھی قابلِ غور قرار دیا

کہ علاقے کے رہائشیوں نے ممکنہ طور پر مقتول کو چور سمجھ لیا ہو، کیونکہ مبینہ طور

پر وہ گندم کے آٹے سے لت پت حالت میں علاقے میں بھاگتا ہوا دیکھا گیا تھا۔

عدالت

نے مشاہدہ کیا کہ دفاع کی جانب سے پیش کردہ وضاحت کو مکمل طور پر غیر ممکن نہیں

کہا جا سکتا۔ معاون ثبوتوں کی عدم موجودگی میں عدالت نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے

ہوئے انہیں بری کر دیا۔

ہندوستھان

سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande