
ممبئی
، 3 جنوری(ہ س)۔
مہاراشٹر ریاستی الیکشن کمیشن نے ریاست کے 29
میونسپل کارپوریشن انتخابات میں بلا مقابلہ منتخب ہونے والے 69 امیدواروں کے
معاملے کی جانچ کا حکم دیا ہے۔ کمیشن نے متعلقہ انتخابی حکام کو ہدایت دی ہے کہ
جانچ مکمل ہونے تک ان امیدواروں کی کامیابی کا باضابطہ اعلان نہ کیا جائے۔
ریاستی
الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ مختلف میونسپل کارپوریشنوں سے یہ شکایات موصول
ہوئی تھیں کہ بعض امیدواروں کو دباؤ، مالی لالچ اور دھمکیوں کے ذریعے اپنے نامزدگی
فارم واپس لینے پر مجبور کیا گیا۔ ان سنگین الزامات کو فوری طور پر نوٹس میں لیتے
ہوئے کمیشن نے متعلقہ انتخابی افسران کو تفصیلی جانچ کر کے اپنی رپورٹ پیش کرنے کا
حکم دیا ہے۔
کمیشن
نے اس سلسلے میں متعلقہ ضلع کلکٹروں اور پولیس کمشنروں کو بھی خطوط ارسال کئے ہیں
تاکہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون فراہم کریں اور کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ ہونے
پائے۔
سرکاری
اعداد و شمار کے مطابق بلا مقابلہ منتخب ہونے والی 69 نشستوں میں سے 68 نشستیں
برسراقتدار مہایوتی اتحاد کے حصے میں آئی ہیں۔ ان میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 44
نشستیں، شیو سینا نے 22 نشستیں اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے 2 نشستیں جیتی ہیں،
جبکہ ایک نشست ایک اسلامی جماعت سے وابستہ آزاد امیدوار نے بلا مقابلہ حاصل کی ہے۔
یہ بلا
مقابلہ کامیابیاں ریاست کے کئی میونسپل کارپوریشنوں میں سامنے آئی ہیں، جن میں سب
سے زیادہ کلیان۔ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن شامل ہے جہاں 22 امیدوار بلا مقابلہ
منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ جلگاؤں میں 12، تھانے میں 7 اور پنویل، بھیونڈی، دھولیہ،
پونے، پمپری۔چنچواڑ اور اہلیانگر میں چند نشستیں بلا مقابلہ رہیں۔
ریاستی
الیکشن کمیشن نے وضاحت کی ہے کہ انتخابی قوانین کے تحت نامزدگی واپس لینے کی مدت
ختم ہونے کے بعد نئے نامزدگی فارم قبول نہیں کئے جا سکتے اور صرف نامزدگی واپس لینے
کی بنیاد پر منتخب امیدواروں کو نااہل قرار دینا ممکن نہیں ہے۔ تاہم اگر جانچ میں
اختیارات کے غلط استعمال یا انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار
افسران کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
ہندوستھان
سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے