اسرائیلی وزیردفاع نے اسرائیلی فوج کو جنگ کی تیاری کی ہدایت
تل ابیب،03جنوری(ہ س)۔غزہ کے تباہ حال علاقے میں روبعمل نازک جنگ بندی کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے فوج کو ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ اور لڑائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی، جیسا کہ اسرائیلی ذرائع نے بتایا۔اسی دوران اسرائیل کی سیاسی قیادت
اسرائیلی وزیردفاع نے اسرائیلی فوج کو جنگ کی تیاری کی ہدایت


تل ابیب،03جنوری(ہ س)۔غزہ کے تباہ حال علاقے میں روبعمل نازک جنگ بندی کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے فوج کو ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ اور لڑائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی، جیسا کہ اسرائیلی ذرائع نے بتایا۔اسی دوران اسرائیل کی سیاسی قیادت کی جانب سے غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ دوبارہ کھولنے کی تیاری کے بارے میں کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں، جیسا کہ اسرائیلی ویب سائٹ ''وللا ''نے رپورٹ کیا۔ایک سکیورٹی ذرائع نے بتایا : اس کا امکان کم ہے کہ اسرائیل غزہ میں سامان کے داخلے کی اجازت دے، کیونکہ اس کا مطلب حماس کو مسلح کیے بغیر اور آخری اسرائیلی قیدی سرباز ران غفیلی کی باقیات واپس لائے بغیر علاقے کی دوبارہ تعمیر کی اجازت دینا ہو گا۔

اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ غزہ معاہدے اور امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی کے لیے دباو¿ ڈال رہی ہے۔ تاہم اسرائیل کے انکار کے بعد واشنگٹن نے یہ تجویز پیش کی کہ رفح کے ان علاقوں کی دوبارہ تعمیر شروع کی جائے، جہاں حماس کے جنگجو موجود نہیں اور وہ ابھی تک اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتین یاہوجنہوں نے اس ہفتے فلوریڈا میں ٹرمپ سے ملاقات کی تھی،انھوں نے اس امریکی تجویز کی منظوری دی ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ 10 اکتوبر 2025 سے غزہ میں تقریباً دو سال طویل تباہ کن جنگ کے بعد جس میں ہزاروں فلسطینی شہری ہلاک ہوئے اور غزہ کے بیشتر علاقوں میں وسیع تباہی ہوئی، ایک جنگ بندی نافذ ہے۔حماس نے اس معاہدے کے تحت تمام زندہ اسرائیلی قیدیوں اور ہلاک شدگان کی لاشیں حوالے کیں، مگر غفیلی کی لاش کی جگہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی۔ اسرائیل اسی کو ایک جواز بنا کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی کو مو¿خر کر رہا ہے، جس میں ٹیکنوکریٹ حکومت کی تشکیل، غزہ کے انتظامات اور دوبارہ تعمیر شامل تھی۔اس کے علاوہ اسرائیل حماس کو غیر مسلح کیے بغیر دوسرے مرحلے میں منتقلی پر تیار نہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande