ایم ایس ایف نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی 37 عالمی تنظیموں پراسرائیلی پابندی کی مذمت کی
غزہ،03جنوری(ہ س)۔انسانی بنیادوں پر دنیا بھر میں کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم’ایم ایس ایف‘ المعروف’''ڈاکٹرز ود آو¿ٹ بارڈرز‘ نے اسرائیل کی مذمت کی ہے کہ اسرائیلی ریاست نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل کو بڑا دھچکا دیا ہے۔اسرائیلی ر
ایم ایس ایف نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی 37 عالمی تنظیموں پراسرائیلی پابندی کی مذمت کی


غزہ،03جنوری(ہ س)۔انسانی بنیادوں پر دنیا بھر میں کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم’ایم ایس ایف‘ المعروف’'ڈاکٹرز ود آو¿ٹ بارڈرز‘ نے اسرائیل کی مذمت کی ہے کہ اسرائیلی ریاست نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل کو بڑا دھچکا دیا ہے۔اسرائیلی ریاست نے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی 37 بین الاقوامی تنظیموں کی غزہ میں سرگرمیوں کے لیے رجسٹریشن اور اجازت منسوخ کر دی ہے۔ کیونکہ ان' این جی اوز' نے فلسطینی شہریوں کا ذاتی ڈیٹا اسرائیل کو دینے سے نہ صرف غیر اخلاقی و غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انکار کیا بلکہ یہ ان کے طریقہ کار اور مینڈیٹ سے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی اشتعال انگیز مطالبہ ہے۔

اسرائیل کی کوشش یہ رہی ہے کہ وہ بین القوامی تنظیموں سے فلسطینیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتا رہا اور ان فلسطینیوں کو مختلف طریقوں سے اپنے نشانے پر رکھتا رہے۔انہی خیراتی اور انسانی بنیادوں پر غزہ کے لاکھوں بے گھر شہریوں کے لیے خدمات انجام دینے والی ایک تنظیم 'ڈاکٹرز ود آو¿ٹ بارڈرز ' جس کے 1200 ارکان ہیں اور زیادہ غزہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹروں کی اس بین الاقوامی تنظیم نے اسرائیل کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں انسانی بنیادوں پر جاری کام کو روکنے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کہ غزہ کے لاکھوں لوگ بے گھر پڑے ہیں ان کے پاس خوراک اور ادویات و علاج کے انتہائی زیادہ مسائل ہیں۔اس لیے اس کے باوجود بین الاقوامی اداروں پر اسرائیل کا پابندی لگانا اہل غزہ میں امدادی و طبی امداد کے لیے بد ترین دھچکا ہے۔ڈاکٹروں کی اس بین الاقوامی تنظیم نے اپنے مو¿قف کو واضح کرتے ہوئے کہا اسرائیلی اقدام پر اس کے قانونی اور انتہائی جائز تحفظات اور تشویش ہے۔ خاص طور پر امدادی کام رکوانے کے لیے تنظیموں کی اجازت ختم کرنے اور مزید یہ کہ ان سے فلسطینی شہریوں کا ذاتی ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے این جی اوز کو دباو¿ میں لانا۔

یاد رہے ڈاکٹروں کی اسی تنظیم کے اب تک پندرہ کارکنوں کو اسرائیلی فوج غزہ میں امدادی کام کے دوران قتل کر چکی ہے۔ اس کے باوجود اس تنظیم سے مطالبات کی آڑ میں اس کے کام کو ہی بند کرنے کی اسرائیلی کوشش جاری ہے۔ڈاکٹروں کی اس بین الاقوامی تنظیم نے یہ بھی مو¿قف دیا کہ اس سارے عمل کے ذریعے ایک مقصد غزہ میں انسانی بنیادوں کے کام کو ہی روکنی کی سبیل ہے۔اسرائیل فلسطینیوں کی امداد کے لیے کام کرنے والی ہر تنظیم اور ادارے کو روکنے کے ایک مستقل نظام کو اختیار کیے ہوئے۔ اسرائیل کی 2005 میں بنانا شروع کی جانے والی دیوار بھی ایک رکاوٹ ہے۔ڈاکٹروں کی اس تنظیم کے فلسطین کے لیے سربراہ فلپ ریبیرو نے کہا اسرائیل کی طرف سے ہمارے آپریشنز کی بندش کا اعلان فی الحال کارگر نہیں ہو سکتا البتہ ہمیں ساٹھ دن تک کی مہلت دی گئی ہے کہ ہم دو ماہ کے اندر اندر علاقے سے نکل جآئیں۔ ہم نہیں جانتے کہ اسرائیل ساٹھ دن ہمیں یہاں کام کرنے دے گی یا اس سے پہلے ہی نکالنے کے اقدامات کرے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande