
مظفرپور، 3 جنوری (ہ س)۔بہارمیں بدعنوانی کے خلاف زیروٹالرینس پالیسی کے تحت ویجیلنس انویسٹی گیشن بیورو (وی آئی بی) نے ہفتہ کے روز ایک بڑی کارروائی کی۔ ویجیلنس ٹیم نے مظفر پور کے ضلع زراعت افسر سدھیر کمار کو ان کی نجی رہائش گاہ پر 19,000 روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ سدھیر کمار فی الحال پروجیکٹ ڈائریکٹر (اے ٹی ایم اے) اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر (کراپس) ترہوت ڈویژن کے اضافی چارج پر فائز ہیں۔معلومات کے مطابق یہ پورا معاملہ محکمہ زراعت کے کنٹریکٹ ملازم سنتوش کمار کی بحالی سے متعلق ہے۔ ضلع زراعت افسر سدھیر کمار نے سنتوش کمار سے ان کی سروس میں توسیع اور دوبارہ جوائننگ کے بدلے 2 لاکھ روپے کی رشوت طلب کی۔ مالی مشکلات سے دوچار ملازم نے اپنی نوکری بچانے کے لیے رقم کا بندوبست کرنا شروع کر دیا۔متاثرہ سنتوش کمار نے بتایا کہ بھاری رشوت دینے کے لیے انہیں اپنے گھر سے اپنی بچت اور قیمتی سامان بیچنا پڑا۔ 5 دسمبر کو سنتوش نے سدھیر کمار کو 181,000 روپے کی پہلی قسط ادا کی۔ اس نے یہ رقم بینک سے قرض لے کر، اپنی بیوی کے زیورات گروی رکھ کر اور اپنی گاڑی بیچ کر اکٹھی کی۔ اتنی بڑی رقم ادا کرنے کے بعد بھی سدھیر کمار نے بقیہ 19,000 روپے کے لیے سنتوش پر دباؤ ڈالنا جاری رکھا۔بار بار کے ذہنی دباؤ سے تنگ آکر سنتوش کمار نے 11 دسمبر کو پٹنہ میں ویجیلنس ڈیپارٹمنٹ میں تحریری شکایت درج کرائی۔ محکمہ نے معاملے کی تصدیق کی اور شکایت کے درست ہونے پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ منصوبہ بندی کے مطابق ہفتہ کے روز جیسے ہی سنتوش کمار شہر میں چرچ روڈ پر سدھیر کمار کی نجی رہائش گاہ پر19,000 کی رشوت کی بقیہ رقم دینے کے لیے پہنچے۔ پہلے گھات لگاکر انتظارکر رہی ویجیلنس ٹیم نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔معاملے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ویجیلنس ڈی ایس پی متھیلیش کمار نے بتایا کہ ملزم افسر کو رشوت کی رقم کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔ غیر متناسب اثاثوں سے متعلق دستاویزات کو بے نقاب کرنے کے لیے ان کی رہائش گاہ کی بھی تلاشی لی جا رہی ہے۔ گرفتاری کے بعد ٹیم ملزم کو پٹنہ لے گئی ہے، جہاں انہیں خصوصی ویجیلنس عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan