’پنچ پریورتن‘ پروگرام: صد سالہ یاد کے ساتھ بااختیار، خودکفیل اور ترقی یافتہ بھارت کا فکری عزم
اٹل بہاری واجپئی جی کی صد سالہ جینتی اور آنجہانی شری کانت شنکر جوشی جی کی پ±نّیہ اسمرتی کے موقع پر نئی دہلی میں قومی فکری سمینارنئی دہلی، 3 جنوری(ہ س)۔سابق وزیر اعظم، بھارت رتن اٹل بہاری واجپئی جی کی صد سالہ جینتی اور قابلِ احترام آنجہانی شری کان
’پنچ پریورتن‘ پروگرام: صد سالہ یاد کے ساتھ بااختیار، خودکفیل اور ترقی یافتہ بھارت کا فکری عزم


اٹل بہاری واجپئی جی کی صد سالہ جینتی اور آنجہانی شری کانت شنکر جوشی جی کی پ±نّیہ اسمرتی کے موقع پر نئی دہلی میں قومی فکری سمینارنئی دہلی، 3 جنوری(ہ س)۔سابق وزیر اعظم، بھارت رتن اٹل بہاری واجپئی جی کی صد سالہ جینتی اور قابلِ احترام آنجہانی شری کانت شنکر جوشی جی — سابق رکن قومی عاملہ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ — کی پنّیہ اسمرتی کے موقع پر آج نئی دہلی میں ایک قومی سطح کا فکری پروگرام “پنچ پریورتن” منعقد کیا گیا۔یہ پروگرام بھارت کو ایک بااختیار، خودکفیل اور ترقی یافتہ قوم کے طور پر مستحکم کرنے کے لیے سماجی، ثقافتی اور اخلاقی اقدار پر مبنی مکالمے کو آگے بڑھانے کے مقصد سے منعقد کیا گیا۔اس پروگرام کا انعقاد مدرلینڈ انٹیلیکچوئل فاو¿نڈیشن اور مسلم راشٹریہ منچ نے مشترکہ طور پر کیا۔ منتظمین کے مطابق، یہ پروگرام آنجہانی شری کانت شنکر جوشی جی کی وطن سے وفاداری، فکری وضاحت اور سماجی وابستگی سے بھرپور زندگی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے افکار کو عصرِ حاضر کے بھارت کے چیلنجز اور مواقع سے جوڑنے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے۔

پروگرام کے مہمانِ خصوصی، معزز مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو جی (وزارتِ ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی) نے اپنے خطاب میں کہا:

“پنچ پریورتن کا تصور بھارت کی ثقافت، عوامی زندگی اور طرزِ حیات میں گہرائی سے رچا بسا ہے۔ بھارت پانچ ہزار سال پرانی تہذیبی روایت رکھنے والا ملک ہے، جس نے ہمیشہ دنیا کو رہنمائی دی ہے۔ آج بھارت تیسری سب سے بڑی معاشی طاقت بننے کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اور اس کی بنیاد میں سوَدیشی سوچ اور پنچ پریورتن کی روح شامل ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ آج بھارت میں تیار کردہ ٹیلی کام اور تکنیکی آلات پوری دنیا میں برآمد ہو رہے ہیں، جو خودکفیل بھارت کی سمت ایک بڑی کامیابی ہے۔

پروگرام کی صدارت مسلم راشٹریہ منچ کے رہنما اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے قومی عاملہ رکن جناب اندریش کمار جی نے کی۔ انہوں نے کہا:“ایسا کوئی انسان نہیں جس نے کبھی خواب نہ دیکھا ہو، مگر خواب کبھی غیر ملکی زبان میں نہیں آتا—وہ ہندوستانی احساس میں ہی آتا ہے۔ ایشور، اللہ، خدا، واہے گرو یا پرماتما—سچ ایک ہی ہے۔ تنوع کسی تصادم کی علامت نہیں بلکہ حسن ہے، اور یہی حسن بھارت کی یکجہتی کی بنیاد ہے۔”این۔سی۔ایم۔ای۔آئی۔ کے ایگزیکٹو چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر نے کہا:“ہمیں اپنے خود آگہی اور شناخت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری ثقافتی وراثت ہی ہماری اصل دولت ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف ذاتی ترقی نہیں بلکہ زندگی کی تعمیر اور قومی خدمت ہونا چاہیے۔”

پروگرام کا کلیدی خطبہ ڈاکٹر ڈی۔کے۔ اگروال، صدر، مدرلینڈ انٹیلیکچوئل فاو¿نڈیشن نے پیش کیا۔ انہوں نے ‘پنچ پریورتن’ کو قوم کی تعمیر کا ایک عملی ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تصور فرد سے خاندان، سماج اور بالآخر قوم کی تبدیلی کا راستہ ہموار کرتا ہے۔

پروگرام میں ‘پنچ پریورتن’ کے تصور کو پانچ بنیادی جہتوں کی صورت میں پیش کیا گیا:

سماجی ہم آہنگی (Social Harmony)

کنبہ بیداری (Family Enlightenment)

ماحولیات (Environment)

سوَدیشی/خودی کا شعور (Swadeshi / Self-hood)

شہری فرائض (Civic Duties)

اس موقع پر متعدد معزز مقررین نے قومی یکجہتی، سماجی اصلاحات، میڈیا کے کردار اور شہری ذمہ داریوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔منتظمین نے کہا کہ “پنچ پریورتن” محض ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک فکر پر مبنی تحریک ہے، جو آنجہانی شری کانت شنکر جوشی جی اور سابق وزیر اعظم بھارت رتن اٹل بہاری واجپئی جی جیسے عظیم قوم خادموں کی فکری وراثت کو آگے بڑھانے کا عزم رکھتی ہے۔یہ پروگرام 3 جنوری 2026 کو سہ پہر 3:30 بجے، آکاشوانی بھون، پارلیمنٹ مارگ، نئی دہلی میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے آئے دانشوروں، نوجوانوں، سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande