
بنگلہ دیش کے سندربن میں سمندری ڈاکووں کا ڈیرہ، دہشت میں ماہی گیر
ڈھاکہ، 21 جنوری (ہ س)۔ بنگلہ دیش کی 1320 کلومیٹر کی سمندری سرحد پر مقامی ماہی گیروں کے لیے سندربن میں داخل ہونا آسان نہیں ہے۔ یہاں قزاقوں کے درجنوں گروہ پہنچ چکے ہیں۔ یہ ڈاکو ماہی گیروں کو مبینہ طور پر ’پرمٹ‘ جاری کرتے ہیں۔ اس کے بدلے میں موٹی رقم لیتے ہیں۔ بنگلہ دیش کوسٹ گارڈ نے اس نئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے آپریشن تیز کر دیے ہیں۔
’ڈھاکہ ٹریبیون‘ اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ پیسہ نہیں دینے پر ان کا اغوا کر لیا جاتا ہے۔ اس دوران اذیت دی جاتی ہے۔ پھر تاوان دینے پر ہی چھوڑا جاتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ قزاق گروہوں کے نام نہاد ’ٹوکن‘ لینے کے لیے مجبور ہیں۔ بتاتے ہیں کہ 2017 میں بڑے پیمانے پر سمندری ڈاکووں کے خود سپردگی کے بعد یہ روایت کافی حد تک ختم ہو گئی تھی۔ مگر 5 اگست 2024 کو سیاسی بدامنی کے بعد پھر سے سندربن میں ڈاکو سرگرم ہو گئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق، سندربن سے متصل سات کھیرا، باگیرہاٹ اور کھلنا اضلاع کے جنگلوں میں 10 سے زیادہ قزاق گروہ سرگرم ہیں۔ یہ قزاق مبینہ طور پر ماہی گیروں کو متوازی پرمٹ جاری کرتے ہیں۔ ان کا پرمٹ ’ٹوکن‘ ہوتا ہے۔ یہ ٹوکن طے شدہ رقم لینے کے بعد دیا جاتا ہے۔ اس ٹوکن کے بعد ہی ماہی گیروں کو بے خوف ہو کر خاص علاقوں سے گزرنے کی اجازت ملتی ہے۔
کچھ ماہی گیروں نے بتایا کہ ٹوکن اکثر ایک خاص سیریل نمبر والا کرنسی نوٹ ہوتا ہے۔ اس پر سمندری ڈاکو گروہ ماہی گیر کا نام لکھ دیتے ہیں۔ اس ٹوکن کو جنگل میں داخل ہوتے وقت پاس میں رکھنا ہوتا ہے۔ ایک ماہی گیر نے شناخت ظاہر نہیں کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر کوئی دوسرا قزاق گروہ پکڑ لیتا ہے تو ٹوکن کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔ اس گروہ سے بھی ٹوکن خریدنا پڑتا ہے۔ اس نے بتایا کہ دو مہینے پہلے قزاقوق کے ’ڈان‘ گروپ نے اسے اغوا کر لیا تھا اور دو دنوں تک یرغمال بنا کر رکھا تھا۔ خاندان نے اسے چھڑانے کے لیے 40,000 ٹکہ کا انتظام کیا تھا۔
سال 2017 میں خود سپردگی کرنے والے سمندری ڈاکو عالم سردار نے ٹوکن روایت کی تصدیق کی۔ عالم اب عام زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اگر کوئی ماہی گیر ٹوکن دکھاتا ہے، تو قزاق اسے جانے دیتے ہیں۔ اس کے بغیر، انہیں اغوا کا خطرہ ہوتا ہے۔ ہر گروہ کا اپنا الگ اصول ہوتا ہے۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ ماہی گیر سے ٹوکن کے عوض 10,000 سے 50,000 ٹکہ وصول کیے جاتے ہیں۔ بنا ٹوکن کے سندربن میں چوری چھپے داخل ہونے والے ماہی گیر اگر ان کے ہتھے چڑھ گئے تو 20,000 سے 200,000 ٹکہ لے کر ہی چھوڑا جاتا ہے۔ عالم سردار نے کہا کہ کچھ سرگرم سمندری ڈاکو 5 اگست کی بدامنی کے دوران پولیس اسٹیشنوں سے لوٹے گئے ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ زیادہ تر سمندری ڈاکو سابق مجرم ہیں۔
خراب صورتحال کے درمیان بنگلہ دیش کوسٹ گارڈ نے انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن شروع کیا ہے۔ 2 جنوری کو سمندری ڈاکووں نے دو سیاحوں اور ’گول کانن ایکو ریزورٹ‘ کے مالک کو اغوا کر لیا تھا۔ کوسٹ گارڈ کو ان کو چھڑانے میں 48 گھنٹے لگ گئے۔ فورس کے ترجمان کے مطابق، 2025 میں سمندری ڈاکووں سے 38 ہتھیار، دو ہینڈ گرنیڈ، 74 مقامی ہتھیار اور 448 راونڈ گولہ بارود برآمد کر کے 52 یرغمالیوں کو بچایا گیا۔
محکمہ جنگلات اور قانون نافذ کرنے والے افسران نے سمندری ڈاکووں کی موجودگی کی بات تسلیم کی ہے۔ سات کھیرا فاریسٹ رینجر محمد فضل الحق نے کہا، ’’ہم نے سنا ہے کہ سمندری قزاق ٹوکن کے بدلے سندربن میں انٹری دے رہے ہیں۔ حالانکہ، کسی نے بھی سرکاری طور پر ہمارے پاس کوئی شکایت درج نہیں کرائی ہے۔‘‘
باگیرہاٹ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس محمد حسن چودھری نے کہا کہ انہیں ابھی تک ٹوکن سسٹم کی تصدیق کرنے والی کوئی خاص جانکاری نہیں ملی ہے، جبکہ علاقے میں بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کے ایک افسر نے کہا کہ اسی طرح کی باتیں غیر رسمی طور پر سامنے آئی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن