
واشنگٹن،20جنوری(ہ س)۔وائٹ ہاوس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ’امن کونسل‘ (Council of Peace) کے میثاق پر دستخط کرنے کی دعوت کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ یہ عمل آئندہ جمعرات کو ڈیووس فورم کے موقع پر انجام پائے گی۔رپورٹوں کے مطابق کم از کم 60 ممالک کو اس کونسل میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔ تاہم فرانس سمیت بعض ممالک نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس کونسل کا دائرہ کار صرف غزہ کی پٹی تک محدود نہیں رہے گا اور یہ ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کر سکتی ہے۔بلومبرگ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کئی مغربی ممالک غزہ میں امن کونسل کے میثاق کی دفعات میں ترمیم اور ایک متحد رد عمل پر کام کر رہے ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ امریکی مسودہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بہت وسیع اختیارات فراہم کر دے گا۔ یورپیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اپنی شرائط اور کونسل میں حاصل اختیارات کے ذریعے ایک ایسی’چھوٹی اقوام متحدہ‘ بنا رہے ہیں جو مکمل طور پر امریکہ کے زیر تسلط ہو گی اور اس میں کوئی بین الاقوامی توازن نہیں ہوگا۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) نے پیر کے روز فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کے قریبی حلقوں کے حوالے سے بتایا کہ پیرس فی الحال ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ امن کونسل میں شمولیت کا ارادہ نہیں رکھتا، کیونکہ یہ کئی بنیادی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ ماکروں کے قریبی ذرائع نے اشارہ دیا کہ اس اقدام کا میثاق ابتدائی توقعات کے برعکس صرف غزہ کی پٹی کے معاملے سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔دوسری جانب ایک کینیڈین حکومتی ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اٹاوا ٹرمپ کی قائم کردہ امن کونسل میں شامل ہونے کے لیے کوئی ادائیگی نہیں کرے گا، حالانکہ وزیر اعظم مارک کارنی نے پہلے اشارہ دیا تھا کہ وہ امریکی صدر کی دعوت قبول کر لیں گے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایک میثاق کی کاپی سے یہ معلوم ہوا کہ اس کونسل میں مستقل نشست حاصل کرنے والے ہر امیدوار ملک کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد نقد رقم ادا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔امریکی صدر نے 60 ممالک کو اس کونسل میں شمولیت کی دعوت دی ہے، لیکن مستقل رکنیت صرف انہی کے لیے دستیاب ہوگی جو ایک ارب ڈالر ادا کریں گے۔ وائٹ ہاوس نے ان سیاست دانوں اور سفارت کاروں کے ناموں کا بھی انکشاف کیا ہے جو اس میں شرکت کریں گے۔ ان شخصیات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، ٹرمپ کے داماد اور بین الاقوامی ثالث جیرڈ کشنر شامل ہیں۔اس کے علاوہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، امریکی ارب پتی مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، اور ٹرمپ کے مشیر رابرٹ گیبریل کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق، دعوت نامے کی کاپی اور میثاق کے مسودے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ تا حیات اس کونسل کے سربراہ رہیں گے اور یہ کونسل پہلے غزہ کی پٹی کے معاملے کو حل کرے گی اور بعد ازاں اپنا دائرہ کار دیگر تنازعات تک بڑھا دے گی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan