غزہ امن کونسل میں شمولیت سے فرانس کاانکار، کینیڈا اس کی فیس ادا نہیں کرے گا
ریاض،20جنوری(ہ س)۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیرس اس مرحلے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ کونسل آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ذرائع کے مطاب
غزہ امن کونسل میں شمولیت سے فرانس کاانکار، کینیڈا اس کی فیس ادا نہیں کرے گا


ریاض،20جنوری(ہ س)۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیرس اس مرحلے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ کونسل آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ذرائع کے مطابق یہ کونسل بنیادی نوعیت کے سوالات کھڑے کر رہی ہے۔میکرون کے قریبی حلقوں نے کہا ہے کہ اس اقدام کا میثاق ابتدائی توقعات کے برعکس صرف غزہ کے معاملے سے کہیں آگے جا رہا ہے۔ذرائع نے کہا کہ یہ بنیادی سوالات اٹھاتا ہے، خاص طور پر اقوامِ متحدہ کے ایسے اصولوں اور ڈھانچے کے احترام کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں جن پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع نے ایک موثر کثیر جہتی نظام پر زور دیا۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ فرانس، جسے دیگر ملکوں کے ساتھ اس ادارے میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر مجوزہ قانونی فریم ورک کا جائزہ لے رہا ہے۔ذرائع نے تصدیق کی کہ فرانس غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے ایک معتبر سیاسی افق کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ دوسری جانب ایک کینیڈین حکومتی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اوٹاوا ٹرمپ کی تشکیل کردہ ’کونسل آف پیس‘ میں شمولیت کے لیے ادائیگی نہیں کرے گا۔ اس سے قبل وزیراعظم مارک کارنی نے اشارہ دیا تھا کہ وہ امریکی صدر کی دعوت قبول کر لیں گے۔کارنی کے ایک اعلیٰ سطح کے مشیر نے کہا کہ کینیڈا کونسل میں نشست حاصل کرنے کے لیے ادائیگی نہیں کرے گا اور فی الوقت کینیڈا سے ایسی کوئی درخواست بھی نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے اس میز پر بیٹھنا اہم ہے تاکہ اس راستے کو اندر سے تشکیل دیا جا سکے۔ کچھ تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں تاکہ اگلے مراحل کو رسمی شکل دی جا سکے۔ یہ پیش رفت ایک میثاق کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ہوئی ہے جسے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے دیکھا ہے جس کے مطابق اس کونسل میں مستقل نشست حاصل کرنے کے خواہش مند ہر ملک کو ایک ارب ڈالر سے زیادہ نقد ادا کرنے ہوں گے۔امریکی صدر نے 60 ملکوں کو امن کونسل میں شمولیت کی دعوت دی ہے لیکن مستقل رکنیت صرف انہی کے لیے دستیاب ہوگی جو ایک ارب ڈالر ادا کریں گے۔ امریکی صدارتی دفتر نے ان سیاست دانوں اور سفارت کاروں کے ناموں کا انکشاف کیا ہے جو امن کونسل میں شریک ہوں گے۔ دیگر حکام نے بھی دعوت نامے ملنے سے آگاہ کیا ہے۔ ان شخصیات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف، ٹرمپ کے داماد اور بین الاقوامی ثالث جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر، امریکی ارب پتی مارک رووان، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور ٹرمپ کے مشیر رابرٹ گیبریل کو بھی کونسل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔’رائٹرز‘ کی جانب سے دیکھے گئے دعوت نامے کی کاپی اور میثاق کے مسودے کے مطابق ٹرمپ تاحیات اس کونسل کی سربراہی کریں گے اور یہ کونسل سب سے پہلے غزہ کے معاملے کو حل کرے گی اور پھر اپنا دائرہ کار دیگر تنازعات تک پھیلائے گی۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande