
تہران،20جنوری(ہ س)۔ایرانی پولیس سربراہ نے کہا ہے کہ وہ لوگ جنہیں دھوکے سے احتجاج میں شامل کیا گیا تھا اور حکام کے مطابق ایران میں فساد کا ذریعہ بنایا گیا تھا ابھی انہوں نے اپنے آپ کو تین دنوں کے اندر اندر اس ہنگامہ خیزی سے الگ نہ کیا تو انہیں سزاو¿ں کا سامنا کرنا ہوگا۔قومی پولیس کے سربراہ کے پیر کے روز سامنے آنے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے ایرانی نوجوان جو نہ چاہتے ہوئے ان ہنگاموں کا حصہ بنے تھے یا جنہیں مجبور کیا گیا تھا انہیں درحقیقت بد امنی چاہنے والوں نے دھوکہ دیا تھا۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سپاہیوں کے دشمن نہیں تھے اس لیے ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جا سکتا ہے۔
پولیس سربراہ احمد رضا نے سرکاری ٹی وی کے ذریعے مظاہرہن کو دیے گئے اپنے پیغام میں کہا مظاہرین کے لیے زیادہ سے زیادہ تین دنوں کی مہلت ہو سکتی ہے کہ وہ قانون کی سخت گرفت میں آنے سے بچنے کے لیے مظاہروں سے خود کو الگ کر لیں۔یاد رہے ایران میں یہ احتجاجی مظاہرے 28 دسمبر سے شروع ہوئے تھے۔ شروع میں یہ تاجروں اور دکان داروں کے افراط زر اور مہنگائی میں اضافے کے خلاف تھے مگر جلد ہی حکومت مخالف مظاہروں اور ہنگاموں میں تبدیل ہو گئے۔ ان مظاہرین کو اسرائیل کے علاوہ امریکہ و یورپی ممالک سے بھی حمایت مل گئی۔ایرانی حکومت کے لیے یہ مظاہرین ایک چیلنج بننے لگے تو ان کے خلاف سخت اقدمات سامنے آئے اور یورپی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد گرفتار کر لی گئی ہے۔ایرانی سیکورٹی سے متعلق حکام نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ لگ بھگ تین ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ البتہ یورپی ملکوں سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق یہ تعداد بیس ہزار کے قریب ہے۔ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ شرپسندوں کی کی کمر لازما توڑنا ہوگی۔ خواہ ان کا تعلق غیر ملکوں سے ہو یا اپنے ملک سے۔ انہیں سزا ملنا ضروری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan