ایرانی وزیرخارجہ عراقچی کا ڈیووس کی دعوت کی منسوخی پر رد عمل
تہران،20جنوری(ہ س)۔ایران میں حالیہ مظاہروں کے بعد سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والے ’ڈیووس سربراہ اجلاس‘ کے لیے ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو دی گئی دعوت واپس لے لی گئی ہے۔ اس فیصلے پر رد عمل میں عراقچی نے الزام عائد کیا
ایرانی وزیرخارجہ عراقچی کا ڈیووس کی دعوت کی منسوخی پر رد عمل


تہران،20جنوری(ہ س)۔ایران میں حالیہ مظاہروں کے بعد سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والے ’ڈیووس سربراہ اجلاس‘ کے لیے ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو دی گئی دعوت واپس لے لی گئی ہے۔ اس فیصلے پر رد عمل میں عراقچی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے اسرائیل ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے منگل کے روز 'ایکس' پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا ورلڈ اکنامک فورم نے اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں اور امریکہ میں موجود حامیوں کے جھوٹ اور سیاسی دباو¿ کی بنیاد پر ڈیووس میں میری شرکت منسوخ کر دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والا تشدد اور ہلاکتیں موساد کی کھلی حمایت سے ہوئی ہیں۔عراقچی نے مزید کہا’یہ ایک افسوس ناک تضاد ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی اور 71 ہزار معصوم لوگوں کا قتل عام ورلڈ اکنامک فورم کو اسرائیلی حکام کی دعوت منسوخ کرنے پر مجبور نہ کر سکا۔ بلکہ اسرائیلی صدر نے جنوری 2024 میں ڈیووس کا دورہ جشنِ فتح کے انداز میں کیا تھا، جبکہ اس وقت انہیں غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کے حوالے سے سوئٹزرلینڈ میں مجرمانہ الزامات کا سامنا تھا‘۔ایرانی وزیر خارجہ نے ورلڈ اکنامک فورم پر زور دیا کہ وہ اپنے موقف میں تسلسل پیدا کرے کیونکہ موجودہ دہرے معیار صرف اخلاقی پستی اور فکری دیوالیہ پن کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کی کہ ’لوگوں کو سچ جاننے اور خود فیصلہ کرنے کا حق ہے‘۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایران میں مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی۔یہ رد عمل ورلڈ اکنامک فورم کی اس پوسٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران جانوں کے الم ناک ضیاع کی وجہ سے عراقچی کو پانچ روزہ ایونٹ میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس سال ڈیووس کانفرنس ایک طرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دوسری طرف امریکی انتظامیہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان گرین لینڈ اور یوکرین جیسے معاملات پر جاری تناو¿ کے سائے میں منعقد ہو رہی ہے۔واضح رہے کہ ایران میں گذشتہ دسمبر کے آخر میں معاشی حالات کے خلاف وسیع احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے، جو بعد میں سیاسی مطالبات میں بدل گئے۔ خبر رساں ایجنسی 'روئٹرز' نے ایک ایرانی اہل کار کے حوالے سے بتایا تھا کہ ان پ±ر تشدد مظاہروں میں 5 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم عراقچی نے اس تعداد کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاکتیں سیکڑوں میں ہیں جو ’دہشت گردوں کی دراندازی‘ کی وجہ سے ہوئیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande