
سڈنی، 02 جنوری (ہ س)۔ آسٹریلیا کے تجربہ کار بلے باز عثمان خواجہ نے باضابطہ طور پر بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ انگلینڈ کے خلاف سڈنی میں کھیلا جانے والا پانچواں ایشیز ٹیسٹ ان کے کیریئر کا آخری مقابلہ ہوگا۔ یہ ٹیسٹ ان کے لیے بے حد خاص رہے گا، کیونکہ یہی وہ شہر ہے جہاں وہ بڑے ہوئے اور کرکٹ کا خواب دیکھا۔
39 سالہ خواجہ اپنا 88 واں اور آخری ٹیسٹ اسی سڈنی کرکٹ گراونڈ پر کھیلیں گے، جہاں انہوں نے 2011 میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔
جمعہ کی صبح پریس کانفرنس میں انہوں نے اپنے والدین، اہلیہ ریچل اور دو بچوں کی موجودگی میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیم کے ساتھیوں کو اس کی جانکاری انہوں نے پریکٹس سیشن سے ٹھیک پہلے دی۔
خواجہ نے کہا کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ سے رخصت لے رہے ہیں، لیکن ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ وہ کے ایف سی بگ بیش لیگ میں برسبین ہیٹ کے لیے اور شیفیلڈ شیلڈ میں کوئنز لینڈ کی جانب سے دستیاب رہیں گے۔
خواجہ آسٹریلیا کے سب سے بھروسے مند اور مسلسل رن بنانے والے بلے بازوں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ ان کے نام ٹیسٹ کرکٹ میں 16 سنچریاں ہیں اور سڈنی ٹیسٹ میں 30 رن بناتے ہی وہ مائیکل ہسی (6235 رن) کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آسٹریلیا کے سب سے زیادہ رن بنانے والوں کی فہرست میں 14 ویں مقام پر پہنچ جائیں گے۔
پریس کانفرنس کے دوران خواجہ جذباتی نظر آئے۔ انہوں نے کہا، ”میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے وقت میں رو پڑوں گا، لیکن جیسے ہی میں نے ساتھیوں کو بتایا، میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ یہ دکھاتا ہے کہ کرکٹ میرے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔“
عثمان خواجہ آسٹریلیا کے پہلے مسلم ٹیسٹ کرکٹر ہیں۔ انہوں نے نسل پرستی کے خلاف آواز اٹھانے اور جنوبی ایشیائی نژاد کھلاڑیوں کے لیے بہتر مواقع کی وکالت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا، ”میں ایک فخر کرنے والا مسلمان ہوں، پاکستان میں پیدا ہوا ایک رنگین لڑکا، جسے کہا گیا تھا کہ وہ کبھی آسٹریلیا کے لیے نہیں کھیلے گا – آج آپ دیکھ رہے ہیں میں کہاں تک پہنچا ہوں۔“
خواجہ کا کیریئر اتار چڑھاو سے بھرا رہا۔ 11-2010 ایشیز میں ٹیسٹ ڈیبیو کے بعد انہیں کئی بار ٹیم سے باہر کیا گیا۔ چوٹیں، سلیکٹرز کے فیصلے اور غیر ملکی دوروں پر خراب فارم – سب کچھ انہوں نے جھیلا۔ ایک وقت ان کا ٹیسٹ اوسط 25.13 تک گر گیا تھا۔ لیکن 16-2015 گھریلو سیزن میں شاندار واپسی کرتے ہوئے انہوں نے پانچ ٹیسٹ میں چار سنچریاں لگائیں۔ 2018 میں پاکستان کے خلاف دبئی ٹیسٹ میں 141 رنوں کی تاریخی اننگز اور 22-2021 ایشیز میں سڈنی میں دو سنچریاں ان کے کیریئر کے یادگار لمحے رہے۔
2023 ایشیز کے پہلے ٹیسٹ میں ایجبسٹن میں 141 اور 65 رنوں کی میراتھن اننگز نے آسٹریلیا کی تاریخی جیت کی بنیاد رکھی۔ حال ہی میں سری لنکا کے خلاف گال میں کھیلی گئی 232 رنوں کی اننگز ان کے کیریئر کی بہترین اننگز میں گنی جاتی ہے۔
ٹیسٹ: 87 میچ | 6206 رن | اوسط 43.39 | سب سے زیادہ 232 | سنچریاں 16 | نصف سنچریاں 28
ون ڈے: 40 میچ | 1554 رن | اوسط 42.00 | سنچریاں 2 | نصف سنچریاں 12
ٹی-20. 9 میچ | 241 رن | اسٹرائیک ریٹ 132.41
اپنے کیریئر کو لے کر خواجہ نے کہا، ”میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے ایک خوش اخلاق کرکٹر کے طور پر یاد رکھیں، جس نے میدان پر تفریح کی اور جسے کھیلتے دیکھنا لوگوں کو اچھا لگا۔“
سڈنی ٹیسٹ کے ساتھ آسٹریلیائی کرکٹ کا یہ پُرعزم اور پرجوش باب ختم ہوگا، لیکن عثمان خواجہ کی کہانی آنے والی نسلوں کو طویل عرصے تک متاثر کرتی رہے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن