
کاٹھمنڈو، 2 جنوری (ہ س)۔ نیپال نے 2025 میں 63 ممالک کے 501 غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کیا جو مختلف مجرمانہ سرگرمیوں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے۔ ان میں ملک بدر کیے جانے والے شہریوں میں سب سے زیادہ تعداد چینیوں کی تھی۔
امیگریشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر تکارام ڈھکال کے مطابق ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں سے 437 ایسے تھے جو اپنے ویزوں کی میعاد ختم ہونے کے بعد خفیہ طور پر نیپال میں مقیم تھے اور انھیں ’اووراسٹے‘کے جرم میں ملک بدر کیا گیا ۔ دیگر 64 غیر ملکی شہریوں کو قید کی سزا پوری کرنے کے بعد ملک بدر کر دیا گیا۔ڈھکال کے مطابق غیر ملکی شہری سیاحتی ویزے پر نیپال آنے کے بعد سائبر کرائم، منشیات کی سمگلنگ، جنسی استحصال، سونا اور غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ، جنگلی حیات کی اسمگلنگ وغیرہ جیسے جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ملک بدری کی سب سے زیادہ تعداد 120 چینی شہریوں کی تھی۔ چینی شہری کاٹھمنڈو میں منظم شادی بیورو، سونے اور غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ، جنگلی حیات کی اسمگلنگ، اور سائبر کرائم میں ملوث پائے گئے ہیں، جو کہ نیپالی خواتین کے ساتھ شادیوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ بنگلہ دیشی شہری سائبر کرائم، فراڈ اور جعلسازی میں بھی پکڑے گئے ہیں۔ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق این جی اوز کے ذریعے سماجی خدمت کی آڑ میں آنے والے برطانیہ، امریکا اور دیگر ممالک کے شہریوں پر جبری مذہب تبدیل کرانے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ محکمہ کے مطابق سال 2025 میں مجموعی طور پر 63 ممالک کے 501 شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا جس میں سب سے زیادہ چین کے شہری اور دوسرے نمبر پر بنگلہ دیش کے 75 شہری شامل ہیں۔ امریکہ کے 35، چوتھے نمبر پر برطانیہ کے 22 اور پانچویں نمبر پر پاکستان کے 18 شہری زائد قیام کی وجہ سے امیگریشن ایکشن کی زد میں آئے۔ جرم کی نوعیت کے مطابق ان تمام کو نیپال میں 2 سے 10 سال کے لیے داخلے پر پابندی لگا کر ملک بدر کر دیا گیا ہے۔محکمہ کے مطابق نیپال میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث غیر ملکی شہریوں کی تعداد 2023 میں 468، 2022 میں 570، 2021 میں 308، 2020 میں 332، 2019 میں 671، 2018 میں 678 اور 5579 تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan