
دمشق،02جنوری(ہ س)۔علاقے میں الرفید قصبے کے نواح میں شامی شہریوں کے ایک گروپ پر فائرنگ کردی۔ شامی میڈیا کے مطابق یہ حملہ اس وقت ہوا جب شہریوں کا ایک گروپ الرفید قصبے کے نواح میں افواج کے الگ ہونے کی لائن کے قریب مویشی چرا رہا تھا اور کھمبیاں جمع کر رہا تھا۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں متعدد مویشی ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے بدھ کو بھی قنیطرہ کے دیہی علاقے میں مغربی تل الاحمر پوائنٹ سے مشرقی تل الاحمر کی سمت مشین گنوں سے فائرنگ کی تھی اور روشنی کے گولے پھینکے تھے۔شامی نیوز چینل ” الاخباریہ “ کے مطابق یہ کارروائی چار ” ہائلکس “ گاڑیوں پر مشتمل ایک اسرائیلی گشتی ٹیم کی دراندازی کے بعد کی گئی جس نے العدنانیہ پوائنٹ سے قنیطرہ کے دیہی علاقے میں سد المنطرہ روڈ کی جانب پیش قدمی کی تھی۔
واضح رہے اسرائیلی افواج نے بشار الاسد کے دورِ حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں مزید اراضی پر قبضہ کر لیا ہے۔ صہیونی ریاست کا یہ اقدام 1974 کے افواج کی علیحدگی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے کیونکہ یہ علاقہ غیر فوجی تھا۔ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے وقت سے اسرائیل شام میں فضائی حملے اور زمینی مداخلت کر رہا ہے۔ اگرچہ شام کی حکومت تل ابیب کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اسرائیلی فوج فضائی حملے کر رہی ہے جن میں شہری ہلاک ہو چکے اور شامی فوج کے ٹھکانے، فوجی گاڑیاں، ہتھیار اور گولہ بارود تباہ ہو گیا۔دمشق اور تل ابیب ایک سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں لیکن شام نے پہلے یہ شرط رکھی ہے کہ نقشے پر حالات کو دوبارہ 8 دسمبر 2024 سے پہلے کی پوزیشن پر لایا جائے جب انقلابی دھڑوں نے معزول بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ یاد رہے اسرائیل 1967 سے شام کی سطح مرتفع گولان کے زیادہ تر حصے پر قابض ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan