ایران میں مظاہروں میں شدت،مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم، چھ افراد ہلاک
تہران،02جنوری(ہ س)۔ایران میں مہنگائی اور افراط زر کے انتہائی اونچی سطح پر چلے جانے جبکہ ایرانی ریال کی ڈالر کے مقابلے میں غیر معمولی گراوٹ کے خلاف جاری احتجاج کے پانچویں روز مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مختلف جگہوں پر تصادم کی رپورٹس سامنے آ
ایران میں مظاہروں میں شدت،مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم، چھ افراد ہلاک


تہران،02جنوری(ہ س)۔ایران میں مہنگائی اور افراط زر کے انتہائی اونچی سطح پر چلے جانے جبکہ ایرانی ریال کی ڈالر کے مقابلے میں غیر معمولی گراوٹ کے خلاف جاری احتجاج کے پانچویں روز مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مختلف جگہوں پر تصادم کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔اس سلسلے میں جمعرات کے روز بتایا گیا ہے کہ احتجاج کرنے والوں نے نسبتا جارحانہ انداز اختیار کر لیا اور احتجاج کی شکل سیاسی ہوتی جا رہی ہے۔سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے ٹکراو¿ کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہوگئے۔ اتوار کے روز سے شروع ہونے والے احتجاج کے دوران یہ پہلی چھ ہلاکتیں بتائی گئی ہیں۔ایران میں مہنگائی اور افراط زر کے خلاف تاجروں اور دکانداروں کا یہ احتجاج پچھلے اتوار کے روز شروع ہوا تھا۔ شروع میں یہ احتجاج مکمل پر امن رہا اور تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں میں دیکھنے میں آیا۔ تاہم اب اس احتجاج میں شدت پیدا ہو رہی ہے۔

مظاہرین نے جمعرات کے روز ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خلاف بھی نعرے بازی کی اور ایرانی رجیم کو اٹھا پھینکنے کا مطالبہ کیا۔سرکاری خبر رساں ادارے 'فارس' نیوز ایجنسی کے مطابق جمعرات کے روز دو افراد کی ہلاکت لوردی گان نامی شہر میں ہوئی۔ جبکہ تین افراد عنزہ میں ہلاک ہوئے۔جمعرات کے روز اس سے پہلے ریاستی ٹی وی نے رپورٹ کیا تھا کہ سرکاری سکیورٹی ادارے کا ایک اہلکار ہلاک ہوا ہے۔ جسے مظاہرین نے ایران کے مغربی شہر کوہ دشت میں ہلاک کیا۔اس 21 سالہ سکیورٹی اہلکار کا تعلق بسیج نامی ادارے سے تھا۔ جسے پچھلی رات فسادیوں نے اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ امن و امان کے لیے اپنے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ صوبے کے نائب گورنر نے اس ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔یاد رہے بسیج نامی ادارہ ایک رضاکار فورس پر مشتمل ہے جو ایرانی پاسداران انقلاب فورس سے منسلک ہے۔ اس رضاکار فورس کو اس سے پہلے بھی مظاہرے روکنے کے لیے ایرانی سکیورٹی حکام استعمال کرتے رہے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں ہونے والے احتجاج کے دوران اس کا ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 13 زخمی ہو چکے ہیں۔ریاستی خبر رساں ادارے 'تسنیم' کے مطابق دارالحکومت تہران میں 30 احتجاجی مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی انٹیلی جنس سروسز کے ساتھ مل کر سکیورٹی حکام نے کی ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق مظاہرین میں اس طرح کا غم و غصہ اور شدت نہیں ہے جس طرح کا اس سے پہلے کے مظاہروں میں مشاہدہ کیا جا چکا ہے۔ابھی حالیہ مظاہروں کا آغاز دارالحکومت تہران سے پر امن انداز سے ہوا۔ تاہم بعد ازاں مظاہرین کا دائرہ منگل کے روز تک 10 یونیورسٹیوں میں پھیل گیا۔ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ملک کو احتجاج اور مظاہروں کے ایک نئے گھن چکر میں دھنسنے سے پہلے احتجاجیوں کے جائز مطالبات کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت معاشی معاملات کو اپنی حد تک بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔یاد رہے ایران پچھلی کئی دہائیوں سے تھوڑے سے وقفے کے ساتھ سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ اقتصادی پابندیاں عائد کرنے والے ملکوں میں امریکہ و یورپی ممالک بطور خاص اہم ہیں جو ایران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اس کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کیے ہوئے ہیں۔ ان اقتصادی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو بدحال کر کے رکھ دیا ہے۔ایران کے پراسیکیوٹر جنرل نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ مظاہرین کا جائز اور پر امن احتجاج حق ہے۔ تاہم بدامنی پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے اور بد امنی پھیلانے والوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔

پراسیکیوٹر نے خبردار کیا اگر مظاہرین نے سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور بیرونی ایجنڈے کے مطابق ایران کو بدامنی میں دھکیلنے میں کردار ادا کیا تو قانون کے مطابق مظاہرین کے ساتھ ڈیل کیا جائے گا۔جمعرات کے روز سرکاری ٹی وی نے ایک فوٹیج میں مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کو دکھایا ہے۔نیز آنسو گیس کی وجہ سے بھاگنے کی کوشش کرنے والے افراد کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ بدھ کے روز تسنیم نیوز ایجسنی نے رپورٹ کیا تھا کہ ایسے 7 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں ایران دشمنی کے لیے امریکہ و یورپی ملکوں کے ساتھ منسلک بتایا گیا ہے۔ان کے ذمے یہ کام لگایا گیا تھا کہ وہ ایران میں تشدد و بد امنی پھیلانے کے لیے کردار ادا کریں۔ تاہم تسنیم نیوز ایجنسی نے ان گرفتاریوں کی جگہ اور شہروں کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔یاد رہے ایرانی ریال کی انتہائی غیر معمولی سطح تک گراوٹ امریکہ و یورپی ممالک کی ان پابندیوں کی وجہ سے ہے جو وہ ایک عرصے سے ایران پر عائد کر کے ایران کو اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے سزا دینا چاہتے ہیں۔ایران میں ماہ دسمبر میں افراط زر 52 فیصد تک بڑھ گئی۔ جس نے مہنگائی میں بھی غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande