بینک آف بڑودہ میں 9.02 کروڑ کے قرض گھوٹالے کی تحقیقات جاری ، کوئی بڑا گروہ ملوث ہو سکتا ہے!
رائے بریلی، 2 جنوری (ہ س)۔ پولیس رائے بریلی میں بینک آف بڑودہ برانچ میں 9.02 کروڑ کے قرض گھوٹالے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ اس گھوٹالے میں کوئی بڑا گینگ ملوث ہو سکتا ہے، جو بینک ملازمین کی ملی بھگت سے اسے انجام دے رہا ہے۔ قاب
بینک آف بڑودہ میں 9.02 کروڑ کے قرض گھوٹالے کی تحقیقات جاری ، کوئی بڑا گروہ ملوث ہو سکتا ہے!


رائے بریلی، 2 جنوری (ہ س)۔

پولیس رائے بریلی میں بینک آف بڑودہ برانچ میں 9.02 کروڑ کے قرض گھوٹالے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ اس گھوٹالے میں کوئی بڑا گینگ ملوث ہو سکتا ہے، جو بینک ملازمین کی ملی بھگت سے اسے انجام دے رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بینک آف بڑودہ کی رائے بریلی کی مرکزی شاخ سے جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً 9.02 کروڑ کا قرض حاصل کیا گیا تھا اور کافی مدت تک ادا نہیں کیا گیا۔ ملوث 48 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس انسپکٹر جتیندر سنگھ کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

بینک سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، شناخت شدہ افراد نے گزشتہ برسوں کے دوران بینک آف بڑودہ کی مختلف شاخوں میں اکاؤنٹس کھولنے کی سازش کی تھی، اور انہیں ایک ہی بینک اکاؤنٹ سے ہر ماہ لاکھوں روپے کی تنخواہیں منتقل کی جاتی تھیں۔ بینک ملازمین کو اس کا علم نہیں تھا، اور کھاتہ داروں کو لاکھوں روپے کے ذاتی قرضے دئیے گئے۔ قرض کی قسطیں وقت پر جمع نہ ہونے پر بینک حکام نے فراڈ کا شبہ ظاہر کیا۔ 48 کھاتہ داروں کی بعد ازاں تحقیقات میں فراڈ کا انکشاف ہوا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد بینک حکام بھی جاری تحقیقات میں شامل ہیں جس سے متعدد شواہد سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس پوری اسکیم میں کوئی بڑا گینگ ملوث ہوسکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جعلی آدھار کارڈ اور دیگر دستاویزات کو بینک سے منسلک کرنے کے لیے استعمال ہونے والے موبائل نمبر کو بھی سم خریدتے وقت فرضی آئی ڈی کے ساتھ استعمال کیا گیا تھا۔ حکام اس معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ بینک اکاؤنٹس سے منسلک موبائل نمبروں کی بنیاد پر گروہ کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔تاہم کسی بھی موبائل نمبر کی لوکیشن دستیاب نہیں ہے۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ارون کمار نواہر نے کہا کہ مکمل تحقیقات جاری ہے اور تمام دستاویزات کی خفیہ جانچ سے کچھ اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔ اس فراڈ کو جلد بے نقاب کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande