
کولکاتہ، 2 جنوری (ہ س)۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے جمعہ کو بنگلہ دیش اور مغربی بنگال میں ہندووں پر حملوں کے حوالے سے سنگین الزامات لگائے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش میں ہندو برادری کو تحفظ نہیں مل رہا ہے اور مغربی بنگال کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔
ریاستی بی جے پی نے بنگلہ دیش میں ہندووں کے خلاف تشدد کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے۔ پوسٹ کے مطابق 26 دسمبر 2025 کو بنگلہ دیش کے ضلع پیروج پور صدر کے مغربی ڈوموریتلا گاوں میں ہندووں کے پانچ گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ اگلے دن، 27 دسمبر، 2025 کو، پیروج پور ضلع کے ڈوموریہ گاوں میں مبینہ طور پر ہندوو¿ں کے گھروں کو جلا دیا گیا۔ پارٹی نے یہ بھی بتایا کہ 12 اپریل 2025 کو مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع کے بیٹبونا گاوں میں ہندووں کے گھروں کو آگ لگا دی گئی۔
مزید برآں، بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ 16 جون 2025 کو کولکاتہ کے کھدیر پور علاقے میں ہندووں کی دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔ پارٹی نے کہا کہ یہ واقعات واضح طور پر ہندو برادری کو درپیش مسلسل تشدد اور عدم تحفظ کو ظاہر کرتے ہیں۔
پوسٹ میں، بی جے پی نے الزام لگایا کہ بنگلہ دیش میں ہندووں کو انتہا پسند ہجوم سے کوئی تحفظ نہیں مل رہا ہے اور ہندووں پر صرف اس لیے حملہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے روایتی عقیدے پر قائم ہیں۔ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے واقعات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ