
جموں, 19 جنوری (ہ س)وادی کشمیر سے بے گھر ہوئے کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری کے لیے یونین ٹیریٹری درجہ کے ساتھ علیحدہ وطن کے مطالبے کو لے کر یوتھ فار پنُن کشمیر نے اتوار کی شام جگتی میں احتجاج کیا، جس کے باعث جموں سرینگر قومی شاہراہ کئی گھنٹوں تک بند رہی۔ شاہراہ کی بندش سے بن ٹول پلازہ اور سدھرہ پل تک طویل ٹریفک جام رہا۔احتجاج میں ہزاروں بے گھر کشمیری پنڈتوں نے شرکت کی اور اپنے دیرینہ مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ احتجاج کی قیادت تنظیم کے سینئر رہنماؤں نے کی۔
مظاہرین نے کہا کہ 1989-90 کے دوران وادیٔ کشمیر سے بے دخلی کے بعد کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری کے معاملے میں حکومتوں کی جانب سے مسلسل نظراندازی کی جا رہی ہے، جس کے باعث وہ اپنے ہی ملک میں مہاجر بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اطلاع کے مطابق پولیس کے سینئر افسران موقع پر پہنچے اور مظاہرین سے بات چیت کر کے شاہراہ کھلوانے کی کوشش کی، تاہم مظاہرین اس وقت تک احتجاج ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے جب تک اعلیٰ حکام کی جانب سے ان کے مطالبات پر یقین دہانی نہ کرائی جائے۔
مظاہرین کے مطالبات میں وادیٔ کشمیر میں علیحدہ وطن کے ساتھ مستقل بازآبادکاری اور پارلیمانی قانون سازی کے ذریعے کشمیری پنڈتوں کو نسل کشی کا شکار قرار دینا شامل ہے۔ احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی کی اطلاعات بھی ملیں، جبکہ صورتحال رات گئے تک کشیدہ رہی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر