(اپ ڈیٹ) کراچی شاپنگ پلازہ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق
حادثے میں 30 سے زائد افراد جھلس گئے، اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ اسلام آباد، 18 جنوری (ہ س) ۔پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل شاپنگ پلازہ میں آگ لگنے سے فائر فائٹر سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ واقعے میں 30 سے زائد
آگ


حادثے میں 30 سے زائد افراد جھلس گئے، اربوں روپے کا نقصان ہوا۔

اسلام آباد، 18 جنوری (ہ س) ۔پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل شاپنگ پلازہ میں آگ لگنے سے فائر فائٹر سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ واقعے میں 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے 11 کی حالت تشویشناک ہے۔ تاجروں نے آگ بجھانے کی کوششوں کے غیر موثر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دنیا نیوز کے مطابق پلازہ میں اب بھی متعدد افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ تاجروں نے سندھ حکومت پر بروقت کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا ہے جس کے نتیجے میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے معاوضے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

اطلاعات کے مطابق آگ گل پلازہ کے گراو¿نڈ اور پہلی منزل پر لگی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پانچ افراد کی موت دھواں اور دم گھٹنے اور بھگدڑ کی وجہ سے ہوئی۔ یہ خدشہ بھی ہے کہ عمارت گر سکتی ہے، کیونکہ زبردست آگ نے اس کے ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے۔ سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لانجر نے کہا کہ فائر بریگیڈ کے اہلکار اب بھی 14 گاڑیوں کے ساتھ آگ بجھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں سے تین کی شناخت عامر، آصف اور فراز کے نام سے ہوئی ہے۔ زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آگ نے مزید کئی دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شاپنگ پلازہ کے اندر متعدد افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ بہت سے لوگ پلازے کی چھت پر پناہ لیے ہوئے تھے۔

کراچی مرچنٹس ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر آگ لگنے کے بعد عمارت کے اندر 80 سے 100 افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ پاستا نے کہا کہ تمام صارفین کو نکال لیا گیا ہے، لیکن عملہ اور خریدار اب بھی اندر پھنسے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمارت میں 1200 دکانیں تھیں اور آگ لگنے سے اربوں روپے کا نقصان ہوا۔

تاجر رہنما نے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور نہ ہی میئر کراچی نے تاجروں سے رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک صرف گورنر سندھ آئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ابھی تک کوئی ریسکیو ٹیم عمارت میں داخل نہیں ہوئی اور عمارت کے تین اطراف سے آگ اب بھی جل رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آگ مبینہ طور پر گراو¿نڈ فلور پر پھولوں کی دکان میں لگی۔

کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ سندھ ایمرجنسی سروسز کے اہلکار ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ نے بتایا کہ اس وقت 20 فائر ٹینڈرز اور چار اسنورکل گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹنگ فوم کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلازہ کے پیچھے کا ایک حصہ گر گیا ہے جس سے پھنسے ہوئے لوگوں اور امدادی کارکنوں دونوں کے لیے خطرہ بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمارت میں ایئر کنڈیشنڈ دکانوں کی موجودگی فائر فائٹرز کے لیے مزید چیلنجز کا باعث بنی ہے۔ چیف فائر آفیسر کے مطابق آگ رات 10 بجکر 15 منٹ پر لگی تاہم اطلاع آج صبح سویرے ملی۔

حکام نے ایم اے جناح روڈ کو انکلسریا چوک اور سینٹرل پلازہ کے درمیان ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ کراچی ٹریفک پولیس کے مطابق تبت چوک سے ٹریفک کو جوبلی کی طرف موڑا جا رہا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande