کشتواڑ کے چھاترو میں دہشت گردوں کے ساتھ تصادم میں تین فوجی جوان زخمی
کشتواڑ کے چھاترو میں دہشت گردوں کے ساتھ تصادم میں تین فوجی جوان زخمی جموں، 18 جنوری (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے ایک جنگلاتی علاقے میں اتوار کے روز دہشت گردوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں تین فوجی زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق سیکورٹی فورسز نے
Search


کشتواڑ کے چھاترو میں دہشت گردوں کے ساتھ تصادم میں تین فوجی جوان زخمی

جموں، 18 جنوری (ہ س)۔

جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے ایک جنگلاتی علاقے میں اتوار کے روز دہشت گردوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں تین فوجی زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو گھیرنے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔ فوج کی جموں میں قائم وائٹ نائٹ کور کے مطابق اس کارروائی کو ’آپریشن ترشی ایک،کا نام دیا گیا ہے، جو دوپہر کے وقت شروع ہوا۔ وائٹ نائٹ کور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ سننار، شمال مشرقی چھاترو کے عمومی علاقے میں جاری مشترکہ تلاشی مہم کے دوران سیکورٹی فورسز کا دہشت گردوں سے سامنا ہوا۔ فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سخت جغرافیائی حالات میں دشمن کی فائرنگ کا سامنا کرتے ہوئے جوانوں نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ کارروائی کے دوران سول انتظامیہ اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تال میل برقرار رکھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق تلاشی ٹیموں میں سے ایک کا سامنا دو سے تین غیر ملکی دہشت گردوں کے ایک گروہ سے ہوا، جن کا تعلق مبینہ طور پر پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم جیشِ محمد سے ہے۔ دہشت گردوں نے گھیراؤ توڑنے کی کوشش میں اندھا دھند فائرنگ کی اور دستی بم بھی پھینکے۔

سیکورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کی، جس کے بعد فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کی مزید نفری علاقے میں پہنچا دی گئی تاکہ گھیراؤ مزید مضبوط کیا جا سکے۔ کچھ دیر تک دونوں جانب سے وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ جھڑپ کے دوران تین فوجی جوان چھروں سے زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دہشت گردوں کی تلاش اور انہیں بے اثر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری ہے، جس میں ڈرونز اور سونگھنے والے کتوں سمیت جدید نگرانی کے آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔

یہ رواں سال جموں خطے میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان تیسری جھڑپ ہے۔ اس سے قبل 7 اور 13 جنوری کو ضلع کٹھوعہ کے بلاور علاقے کے کہوگ اور نجوت جنگلات میں مقابلے ہوئے تھے۔ گزشتہ برس 15 دسمبر کو ضلع ادھم پور کے مجالتہ علاقے کے سون گاؤں میں ایک جھڑپ کے دوران ایک پولیس افسر جاں بحق ہو گیا تھا، جبکہ دہشت گرد گھنے جنگلات اور اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ دسمبر میں جموں خطے کے جنگلاتی علاقوں میں چھپے ہوئے تقریباً تین درجن دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑا انسدادِ دہشت گردی آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ یومِ جمہوریہ کے پیش نظر کارروائیوں میں مزید تیزی لائی گئی ہے، کیونکہ خفیہ اطلاعات کے مطابق پاکستان میں موجود ہینڈلرز کی جانب سے مزید دہشت گردوں کو دراندازی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande